میر رضا کیس: جے آئی ٹی افسران کی غیر حاضری پر عدالت برہم، ہیڈ کو شوکاز نوٹس
جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت نے میر رضا کیس کی سماعت کے دوران جے آئی ٹی افسران کی عدم حاضری اور حتمی چالان پیش نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جے آئی ٹی ہیڈ کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا اور 10 نومبر تک وضاحت طلب کر لی۔

اسلام آباد میں جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت نے میر رضا کیس کی سماعت کے دوران جے آئی ٹی کے کسی بھی افسر کی غیر حاضری پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور جے آئی ٹی ہیڈ کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے تحریری وضاحت طلب کر لی ہے۔
عدالتی کارروائی کے مطابق پولیس مقدمے کا حتمی چالان پیش کرنے میں ناکام رہی جبکہ تفتیش کے لیے تشکیل دی گئی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کا کوئی افسر بھی پیش نہیں ہوا۔ اسی عدم حاضری پر عدالت نے یہ اقدام اٹھایا اور جے آئی ٹی کے سربراہ کو شوکاز نوٹس جاری کیا۔
عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 10 نومبر تک واضح طور پر بتایا جائے کہ حتمی چالان کیوں پیش نہیں کیا گیا۔ یہ ہدایت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عدالت مقدمے کی بروقت پیش رفت کو یقینی بنانا چاہتی ہے اور تفتیشی اداروں کی جانب سے تاخیر کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔
سماعت کے دوران مدعی مقدمہ کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ مقدمے کی تفتیش کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے اور کیس اس ٹیم کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق حتمی چالان یا تفتیشی رپورٹ پیش کرنا جے آئی ٹی کی ذمہ داری ہے، اس لیے تاخیر کی ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوتی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق یہ مقدمہ فیروز آباد تھانے میں میر رضا کے اغوا اور قتل کی دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔ عدالت کی جانب سے جاری کردہ شوکاز نوٹس اور مقررہ تاریخ تک وضاحت کی ہدایت سے واضح ہے کہ تفتیشی عمل کی رفتار اور احتساب کو یقینی بنایا جائے گا۔
واضح رہے کہ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عدالتوں کی جانب سے تفتیشی اداروں کی کارکردگی پر مسلسل سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ میر رضا کیس میں جے آئی ٹی کی تشکیل اور اس کے بعد کی کارروائی پر نظر رکھی جا رہی ہے، اور آئندہ سماعت میں ہیڈ کی جانب سے جمع کرائی گئی وضاحت پر مزید قانونی پیش رفت کا انحصار ہوگا۔








