around.pk
Thursday, 5 November 2026
☀ کراچی 34°☀ لاہور 28°☀ اسلام آباد 24°
پاکستان

وفاقی آئینی عدالت کا پشاور ہائیکورٹ کو ایم پی او گرفتاریوں کے مقدمات سننے سے روکنے کا حکم

وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا حکومت کی درخواست پر پشاور ہائیکورٹ کو تاحکم ثانی ایم پی او کے تحت گرفتاریوں کے مقدمات کی سماعت سے روک دیا، جبکہ چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔

around.pk·1h ago

وفاقی آئینی عدالت نے ایک اہم حکم جاری کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کو تاحکم ثانی ایم پی او کے تحت کی جانے والی گرفتاریوں سے متعلق مقدمات کی سماعت سے روک دیا ہے۔ چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے اس معاملے پر سماعت کی اور فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ دیگر فریقین عدالتی حکم کا جائزہ لے کر اپنی درخواستیں دائر کر سکتے ہیں۔

یہ معاملہ سہیل آفریدی اور دیگر افراد کی تھری ایم پی او کے تحت گرفتاریوں سے متعلق ہے، جو پشاور ہائیکورٹ میں زیر التوا ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت نے پشاور ہائیکورٹ کے مختلف احکامات کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کیا تھا، جس پر یہ حکم امتناعی جاری کیا گیا۔

سماعت کے دوران ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کی کارروائیوں کے علاقے میں ہائیکورٹ مداخلت نہیں کر سکتی اور نہ ہی آرٹیکل 199 کا استعمال کر سکتی ہے۔ جسٹس عامر فاروق نے اس پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ میں روزانہ آرٹیکل 199 کے تحت کئی مقدمات آتے ہیں، تو کیا عدالت ایسے مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔

دوران سماعت سابق ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل الیاس نے فریقین کی جانب سے پیش ہو کر عدالتی حکم پر اعتراض کیا اور کہا کہ حکم امتناعی جاری کرنے سے پہلے انہیں بھی سننا چاہیے تھا، اور صوبائی حکومت کے تینوں اعتراضات برقرار نہیں رکھے جا سکتے۔ چیف جسٹس امین الدین خان نے جواب میں کہا کہ عدالتی حکم پڑھ کر اپنے اعتراضات دائر کر دیے جائیں۔

واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے اپنے احکامات میں تھری ایم پی او کے تحت گرفتاریوں سے روکا تھا، جس کے خلاف صوبائی حکومت نے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کیا۔ اس مقدمے کی مزید سماعت آئندہ کارروائی تک جاری رہے گی۔

یہ حکم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں آئینی عدالت کے دائرہ کار اور صوبائی ہائی کورٹس کے اختیارات سے متعلق بحث جاری ہے، اور اس فیصلے کا اثر آئندہ آنے والے ایسے مقدمات پر بھی مرتب ہو سکتا ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں