پاکستان اور تاجکستان کی مشترکہ انسدادِ دہشت گردی مشق 'دوستی III' اختتام پذیر
پاک فوج اور تاجکستان کی افواج کے درمیان دو ہفتے جاری رہنے والی مشترکہ مشق 'دوستی III' چیراٹ کے اسپیشل آپریشنز اسکول میں مکمل ہوگئی، جس کا مقصد انسدادِ دہشت گردی کے تجربات کا تبادلہ اور جنگی مہارتوں میں اضافہ تھا۔

پاکستان اور تاجکستان کی مسلح افواج کے درمیان دوطرفہ انسدادِ دہشت گردی کی مشترکہ مشق 'دوستی III' اختتام پذیر ہوگئی ہے۔ یہ مشق 26 اکتوبر سے شروع ہوئی تھی اور اسپیشل آپریشنز اسکول، چیراٹ میں دو ہفتوں تک جاری رہی۔ مشق کا مقصد دونوں ممالک کی افواج کے درمیان باہمی تعاون کو مستحکم کرنا اور انسدادِ دہشت گردی کے شعبے میں مشترکہ صلاحیتوں کو نکھارنا تھا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق اس مشق کے دوران دونوں افواج نے انسدادِ دہشت گردی سے متعلق تجربات کا تبادلہ کیا، عملی مشقیں کیں اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے طریقہ کار کو مزید بہتر بنانے پر توجہ دی گئی۔ اس دوران بہترین طریقوں کے تبادلے کے ذریعے فوجیوں کی جنگی مہارتوں کو بڑھانے پر بھی کام کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ مشق پاکستان اور تاجکستان کے درمیان طویل المدتی فوجی تعاون کی عکاسی کرتی ہے اور دونوں ممالک کے اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ وہ اپنے دوطرفہ دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ اس طرح کی مشترکہ مشقیں خطے میں سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک کی مشترکہ کوششوں کا حصہ ہیں۔
دوطرفہ فوجی تعاون کے اس سلسلے کو خطے میں استحکام کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جہاں مشترکہ تربیت اور تجربات کے تبادلے سے دونوں افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ 'دوستی' سیریز کی مشقیں حالیہ برسوں میں پاکستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے درمیان دفاعی روابط کو فروغ دینے کی ایک نمایاں کڑی بن چکی ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی پاکستان اور تاجکستان کی افواج نے اسی نوعیت کی مشترکہ مشقیں کی ہیں، جن کا مقصد دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی تیار کرنا اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو مضبوط بنانا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کے تعاون سے نہ صرف دفاعی صلاحیتیں بہتر ہوتی ہیں بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی مثبت پیغام جاتا ہے۔







