around.pk
Monday, 2 November 2026
☁ کراچی 25°☀ لاہور 21°☀ اسلام آباد 18°
صحت

پاکستان میں وٹامن ڈی کی کمی کا بڑھتا بحران: ماہرین کی تشویش

ڈی کنیکٹ سمٹ 2026 میں طبی ماہرین نے خبردار کیا کہ پاکستان کی تقریباً 73 فیصد آبادی وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہے، جس کی بڑی وجوہات میں دھوپ سے گریز، لباس کے انداز، فضائی آلودگی اور خوراک کی غلط ترجیحات شامل ہیں۔

around.pk·2h ago

پاکستان میں وٹامن ڈی کی کمی ایک سنگین عوامی صحت کے مسئلے کی شکل اختیار کر رہی ہے، جس پر طبی ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ خدشات عالمی یومِ وٹامن ڈی کے حوالے سے لاہور کے مال روڈ پر واقع ایک ہوٹل میں مقامی فارماسوٹیکل کمپنی کی جانب سے منعقدہ ڈی کنیکٹ سمٹ 2026 میں سامنے آئے، جہاں ماہرین نے ہڈیوں کی صحت، خواتین کی صحت اور مجموعی جسمانی تندرستی پر وٹامن ڈی کی کمی کے اثرات پر تفصیلی گفتگو کی۔

میو ہسپتال لاہور کے شعبہ آرتھوپیڈکس کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر فیصل مسعود نے 'بچپن سے بڑھاپے تک: ہڈیوں کی صحت کے لیے وٹامن ڈی، زندگی بھر کا ساتھی' کے موضوع پر خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ انسانی جسم میں ہڈیاں حرکت میں مدد، اندرونی اعضا کی حفاظت اور کیلشیم کے توازن جیسے اہم افعال انجام دیتی ہیں، جبکہ وٹامن ڈی جسم کو کیلشیم جذب کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے مختلف اندازوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک میں وافر دھوپ کے باوجود تقریباً 73 فیصد آبادی وٹامن ڈی کی کمی یا ناکافی سطح کا شکار ہے۔

ماہرین کے مطابق اس مسئلے کی چند نمایاں وجوہات ہیں۔ لوگ جلد کی رنگت متاثر ہونے کے خدشے اور شدید موسمی حالات کی وجہ سے براہ راست دھوپ میں نکلنے سے گریز کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ لباس کے مخصوص انداز، معاشرتی روایات، گھروں اور دفاتر میں زیادہ وقت گزارنے کا رجحان اور فضائی آلودگی بھی سورج کی روشنی سے مناسب فائدہ اٹھانے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ کھانے پینے کی عادات میں تبدیلی بھی اس مسئلے میں اضافے کا باعث ہے، کیونکہ لوگ غذائیت کے بجائے ذائقے کی بنیاد پر خوراک کا انتخاب زیادہ کرنے لگے ہیں۔

ڈاکٹر فیصل مسعود نے خبردار کیا کہ وٹامن ڈی کی کمی ہڈیوں کی صحت پر سنگین اثرات مرتب کر سکتی ہے، بالخصوص عمر رسیدہ افراد میں۔ انہوں نے بتایا کہ آسٹیوپوروسس یعنی ہڈیوں کا بھربھرا پن اکثر اس وقت تک تشخیص نہیں ہو پاتا جب تک معمولی سی چوٹ یا گرنے کے نتیجے میں ہڈی نہ ٹوٹ جائے۔ ایک عمر رسیدہ خاتون کی طبی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گھر میں گرنے سے ہونے والا فریکچر بڑھتی عمر، جسمانی سرگرمیوں کی کمی، اسٹیرائڈ ادویات کے استعمال اور دیگر طبی مسائل کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔

ماہرین نے زور دیا کہ اس بڑھتے ہوئے مسئلے سے نمٹنے کے لیے عوامی آگاہی، بروقت تشخیص اور مناسب علاج ناگزیر ہے۔ ڈاکٹر فیصل مسعود کے مطابق ہڈیوں کی صحت کا خیال صرف بڑھاپے میں نہیں بلکہ بچپن ہی سے رکھنا ضروری ہے، تاکہ زندگی بھر ہڈیوں کی مضبوطی کو یقینی بنایا جا سکے اور آسٹیوپوروسس جیسی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔

یہ سمٹ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وٹامن ڈی کی کمی کو صرف ایک غذائی مسئلہ نہیں بلکہ ایک قومی صحت چیلنج کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، جس کے لیے صحت عامہ کی سطح پر مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دھوپ سے محفوظ طریقے سے فائدہ اٹھانا، متوازن غذا اور باقاعدہ طبی جانچ اس مسئلے پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں