around.pk
Monday, 2 November 2026
☀ کراچی 31°☀ لاہور 27°☀ اسلام آباد 25°
صحت

ڈاکٹروں کے خلاف مبینہ غیر منصفانہ مقدمات اور ایف بی آر پوز پالیسی کے خلاف ملک بھر میں احتجاج

وائے ڈی اے سندھ کے چیئرمین ڈاکٹر محبوب نورانی کی قیادت میں ڈاکٹروں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ غیر منصفانہ ایف آئی آرز اور ہراسانی قبول نہیں کی جائے گی، جبکہ پی ایم اے کے مطابق تمام اسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز معمول کے مطابق فعال ہیں۔

around.pk·1h ago

کراچی سمیت ملک بھر کے سرکاری اور نجی اسپتالوں میں ڈاکٹروں کا احتجاج جاری ہے، جس کا مقصد طبی برادری کے مسائل متعلقہ حکام تک پہنچانا ہے۔ این آئی سی ایچ اسپتال کراچی میں بھی ڈاکٹروں نے احتجاج ریکارڈ کرایا اور اپنے مطالبات پیش کیے۔

وائے ڈی اے سندھ کے چیئرمین ڈاکٹر محبوب نورانی کی قیادت میں بھی احتجاج کیا گیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کے خلاف غیر منصفانہ ایف آئی آرز اور ہراسانی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی، اور طبی پیشے سے وابستہ افراد کی عزت و وقار اور پیشہ ورانہ خودمختاری کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔

ڈاکٹر محبوب نورانی نے مزید کہا کہ ایف بی آر کی پوز پالیسی طبی برادری کے لیے تشویش کا باعث ہے اور ڈاکٹروں کو خوف اور دباؤ کے ماحول میں کام کرنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ طبی برادری کے جائز مطالبات کو تسلیم کیا جائے تاکہ وہ بغیر کسی خدشے کے مریضوں کی خدمت جاری رکھ سکیں۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے مطابق احتجاج کے دوران بھی تمام اسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز معمول کے مطابق فعال ہیں اور آنے والے مریضوں کو طبی سہولیات کی فراہمی جاری ہے۔ اس امر سے یہ واضح ہوتا ہے کہ احتجاج کا مقصد مریضوں کو تکلیف دینا نہیں بلکہ اپنے تحفظات حکام کے سامنے لانا ہے۔

واضح رہے کہ یہ دو روزہ احتجاجی تحریک طبی برادری کے مسائل کو متعلقہ حکام تک پہنچانے کے لیے شروع کی گئی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ حکام اس معاملے پر کیا موقف اختیار کرتے ہیں اور ڈاکٹروں کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے کیا اقدامات اٹھائے جاتے ہیں۔

طبی برادری کی جانب سے اٹھائے گئے یہ مطالبات صحت کے شعبے میں کام کرنے والے افراد کے لیے ایک محفوظ اور باوقار ماحول کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں، جس کا براہ راست تعلق عوام کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے معیار سے بھی ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں