around.pk
Thursday, 5 November 2026
⛅ کراچی 28°☀ لاہور 23°☀ اسلام آباد 18°
پاکستان

پشاور ہائی کورٹ کا ڈپٹی اسپیکر کی رہائش گاہ ڈی سیل نہ کرنے پر اظہارِ برہمی، سیکریٹری ایڈمنسٹریشن طلب

پشاور ہائی کورٹ نے خیبرپختونخوا اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر کی سرکاری رہائش گاہ عدالتی حکم کے باوجود ڈی سیل نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سیکریٹری ایڈمنسٹریشن کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا اور سماعت 10 نومبر تک ملتوی کردی۔

around.pk·2h ago

پشاور ہائی کورٹ نے خیبرپختونخوا اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی کی سرکاری رہائش گاہ عدالتی احکامات کے باوجود ڈی سیل نہ کرنے کے معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اور سیکریٹری ایڈمنسٹریشن کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ہے۔ یہ حکم جسٹس اعجاز انور اور جسٹس انعام اللہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے دیا، جس نے اس کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران درخواست گزار کی جانب سے وکلاء یاسر خٹک اور سید رحمت علی شاہ عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل اور محکمۂ ایڈمنسٹریشن کے نمائندے بھی موجود تھے۔ وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد ڈپٹی اسپیکر کی سرکاری رہائش گاہ کو سیل کیا گیا تھا، جس کے خلاف انہوں نے عدالت سے رجوع کیا اور عدالت نے گھر ڈی سیل کرنے کا حکم جاری کیا۔ تاہم، انتظامیہ نے حکم کی تعمیل نہیں کی۔

درخواست گزار کے وکلاء کے مطابق، رہائش گاہ اب تک ڈی سیل نہ ہونے کے باعث نہ تو ڈپٹی اسپیکر گھر جا سکتی ہیں اور نہ ہی ان کے بچے گھر سے باہر نکل سکتے ہیں، جس سے انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

محکمۂ ایڈمنسٹریشن کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ محکمے میں نیا عملہ تعینات ہوا ہے اور سسٹم کو دوبارہ شروع کرنے میں وقت لگ رہا ہے۔ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت سے مزید وقت کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ وہ رپورٹ جمع کرائیں گے۔

جسٹس اعجاز انور نے اس موقع پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب عدالت نے گھر ڈی سیل کرنے کا حکم دیا ہے تو اس کی تعمیل لازمی ہونی چاہیے، اور یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ عدالتی احکامات پر عمل نہیں کیا جاتا۔ عدالت نے سیکریٹری ایڈمنسٹریشن کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 10 نومبر تک ملتوی کردی۔

یاد رہے کہ یہ معاملہ صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے دوران پیدا ہونے والی صورتحال سے جڑا ہے، جس کے بعد سرکاری رہائش گاہیں سیل کی گئی تھیں۔ عدالت کی جانب سے جاری کردہ واضح احکامات کے باوجود تعمیل نہ ہونا انتظامی امور میں سنجیدگی کے فقدان کو ظاہر کرتا ہے۔

عدالتی حکم کی تعمیل میں تاخیر کے اس معاملے نے صوبائی انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں، اور اب دیکھنا یہ ہے کہ سیکریٹری ایڈمنسٹریشن کی ذاتی طور پر طلبی کے بعد معاملہ کس سمت میں آگے بڑھتا ہے اور آیا رہائش گاہ جلد ڈی سیل کی جاتی ہے یا نہیں۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں