around.pk
Monday, 2 November 2026
☀ کراچی 29°☀ لاہور 26°☀ اسلام آباد 23°
پاکستان

ڈی جی آئی ایس پی آر کا بیان: خیبرپختونخوا میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، روزانہ تقریباً 200 کارروائیاں

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں بڑے فوجی آپریشن کے بجائے انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں جاری ہیں اور سیکیورٹی ادارے روزانہ تقریباً 200 آپریشنز کر رہے ہیں۔

around.pk·3h ago

پاکستان کی فوج کے ترجمان ادارے انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے خلاف واضح حکمت عملی موجود ہے، جس کا ایک اہم حصہ دہشت گردوں اور ان کے تمام سہولت کاروں کو ختم کرنا ہے۔ انہوں نے یہ بات ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں کہی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق خیبرپختونخوا میں کسی بڑے فوجی آپریشن کے بجائے انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ سیکیورٹی فورسز روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 200 ایسے آپریشنز انجام دیتی ہیں، جن میں پولیس، فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مشترکہ طور پر حصہ لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں کوئی بھی شخص انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کے خلاف نہیں، اور مخالفت وہی لوگ کرتے ہیں جن کا دہشت گردوں سے تعلق ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ دہشت گردی کے سلسلے میں کچھ معاملات اندرونی طور پر سنبھالنے ہوتے ہیں اور پاکستان بھارت کی طرح تمام داخلی مسائل کو بیرونی قرار نہیں دیتا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان وہ بنیادی اڈہ ہے جہاں سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں ہوتی ہیں، جہاں دہشت گردوں کی قیادت، تربیتی کیمپ اور لانچ پیڈز موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغان طالبان حکومت بھارت کی پراکسی ہے اور کرائے کے جنگجوؤں کا استعمال کر رہی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ انسدادِ دہشت گردی کا وہ تجربہ جو پاکستان کے پاس گزشتہ بیس سال کی جدوجہد سے حاصل ہوا ہے، کسی دوسرے ملک یا فوج کے پاس نہیں۔ خیبرپختونخوا کے عوام نے اس جنگ میں سب سے زیادہ مصائب برداشت کیے ہیں اور وہ امن و استحکام کے مستحق ہیں۔ انہوں نے صوبے کے عوام کو بہادر اور پاکستانی معاشرے کا اہم حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پشتون اپنی روایات پر فخر کرتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ حکومت کی تبدیلی سے متعلق معاملہ سیاسی نوعیت کا ہے، جس کا بہتر جواب سیاست دان ہی دے سکتے ہیں۔ تاہم ان کے مطابق حکومت کی تبدیلی آئینی اور قانونی ضوابط کے مطابق عمل میں آئی تھی۔

انہوں نے بلوچستان کی صورتحال پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ دہشت گرد وہاں ترقیاتی منصوبوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ گروہ کان کنی کے علاوہ ایل پی جی ٹرکوں، اسکولوں، اساتذہ، پلوں اور ریلوے لائنوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں تاکہ معاشی سرگرمیاں متاثر ہوں اور مقامی آبادی کو روزگار فراہم کرنے والے منصوبے رک جائیں۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں