around.pk
Wednesday, 4 November 2026
☀ کراچی 33°☀ لاہور 28°☀ اسلام آباد 25°
پاکستان

آزاد ڈیجیٹل کے سی ای او اور اہلِ خانہ کو مبینہ دھمکیوں کے خلاف این سی سی آئی اے میں شکایت درج

آزاد ڈیجیٹل کے ڈیسک انچارج نے این سی سی آئی اے میں شکایت جمع کراتے ہوئے چار افراد اور منسلک فیس بک اکاؤنٹس کے خلاف تحقیقات اور سی ای او سمیت ان کے اہلِ خانہ کے تحفظ کی درخواست کی ہے۔

around.pk·1h ago

آزاد ڈیجیٹل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) اور ان کے اہلِ خانہ کو مبینہ طور پر دھمکیاں دینے اور ہراساں کرنے کا معاملہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں پہنچ گیا ہے، جہاں متعلقہ افراد کے خلاف باضابطہ شکایت جمع کروا دی گئی ہے۔ ادارے کی جانب سے یہ شکایت ڈیسک انچارج عدیل عمر نے دائر کی، جس میں چار نامزد افراد اور ان سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے خلاف تحقیقات، قانونی کارروائی اور متاثرہ خاندان کے تحفظ کی استدعا کی گئی ہے۔

شکایت کے مطابق ضیاء الرحمن، راشد سومرو، ناصر سومرو اور مفتی اویس کی جانب سے براہِ راست دھمکیاں دی گئیں، جبکہ مختلف فیس بک اکاؤنٹس کے ذریعے دھمکی آمیز پوسٹس اور تبصرے بھی کیے گئے۔ درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ راشد سومرو نے آزاد ڈیجیٹل کے سی ای او کو جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی، جس کے بعد معاملے کو انتہائی سنگین اور ہنگامی نوعیت کا قرار دیا گیا ہے۔

درخواست میں بتایا گیا ہے کہ آزاد ڈیجیٹل کے پروگرامز نشر ہونے کے بعد سی ای او اور ان کے اہلِ خانہ کو مسلسل دھمکیوں اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ شکایت میں چار فیس بک پروفائلز کو مبینہ دھمکی آمیز سرگرمیوں سے منسلک کیا گیا ہے، اور متعلقہ پوسٹس و تبصروں کے اسکرین شاٹس اور ویب لنکس بطور شواہد بھی منسلک کیے گئے ہیں۔

ادارے نے این سی سی آئی اے سے مطالبہ کیا ہے کہ مبینہ دھمکیوں میں ملوث افراد کے علاوہ متعلقہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے مالکان اور آپریٹرز کی شناخت کی جائے، اور تمام ذمہ داران کے خلاف نافذ قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ شکایت میں فوری اور شفاف تحقیقات کی استدعا کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سی ای او اور ان کے اہلِ خانہ کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

واضح رہے کہ یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ملک میں صحافتی سرگرمیوں اور رائے کے اظہار کے حوالے سے سوشل میڈیا پر دھمکیوں اور ہراسانی کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ادارے کی جانب سے دائر شکایت میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ کیا سیاسی اختلافِ رائے یا صحافتی کام کے جواب میں صحافیوں اور ان کے اہلِ خانہ کو دھمکانا قابلِ قبول قرار دیا جا سکتا ہے۔

این سی سی آئی اے اب اس شکایت پر ابتدائی جانچ کے بعد متعلقہ اکاؤنٹس اور افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کرے گی۔ ماہرین کے مطابق آن لائن دھمکیوں اور ہراسانی کے واقعات میں شواہد کی موجودگی تحقیقات کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، اور اس نوعیت کے مقدمات میں فوری کارروائی سے ڈیجیٹل میدان میں محفوظ ماحول کو فروغ مل سکتا ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں