around.pk
Wednesday, 4 November 2026
☀ کراچی 33°☀ لاہور 28°☀ اسلام آباد 25°
پاکستان

پشاور، مہمند اور خیبر میں آبی آلودگی پھیلانے والی 7 ماربل فیکٹریاں سیل

خیبرپختونخوا حکومت نے پشاور، مہمند اور ضلع خیبر میں ماربل اور چپس فیکٹریوں کے خلاف آپریشن کرتے ہوئے فضلے کی مناسب ویسٹ مینجمنٹ نہ کرنے پر 7 فیکٹریاں سیل کر دیں۔

around.pk·1h ago

خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے کے مختلف علاقوں میں صاف پانی کو آلودہ کرنے والی ماربل اور چپس فیکٹریوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق پشاور، مہمند اور ضلع خیبر میں جاری اس آپریشن کے دوران ویسٹ مینجمنٹ کا مناسب انتظام نہ ہونے پر 7 فیکٹریاں سیل کر دی گئی ہیں۔ یہ کارروائی ''بدلتا، نکھرتا اور مضبوط خیبرپختونخوا'' کے تحت کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق ماربل اور چپس فیکٹریوں کی جانب سے فضلے کو غلط طریقے سے ٹھکانے لگانے کے باعث مقامی آبی ذخائر شدید آلودہ ہو رہے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود بعض فیکٹریاں کچرا تالابوں میں جمع کرنے کے بجائے براہ راست دریا میں پھینک رہی ہیں، جس سے پانی کے معیار اور عوامی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

حکومتی ذرائع نے بتایا کہ ملا گوری کے علاقے میں ماربل کا فضلہ درست طریقے سے ٹھکانے نہ لگانے والی فیکٹریوں کو 7 روز کے اندر صفائی یقینی بنانے کی ہدایت جاری کردی گئی ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانا، عوامی صحت کا تحفظ یقینی بنانا اور ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد کو ممکن بنانا ہے۔

خیبرپختونخوا حکومت کا کہنا ہے کہ دریائے کابل کے پانی کو آلودہ کرنے اور ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی کسی بھی فیکٹری کو رعایت نہیں دی جائے گی۔ اس سلسلے میں کارروائی آئندہ بھی جاری رہے گی تاکہ آبی آلودگی کے خطرے کو کم کیا جا سکے اور ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

واضح رہے کہ ماربل اور چپس کی صنعت صوبے کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے، تاہم اس صنعت سے پیدا ہونے والا فضلہ اگر درست طریقے سے ٹھکانے نہ لگایا جائے تو یہ آبی ذخائر، زرعی زمین اور مقامی آبادی کی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ حکومتی اقدام کو ماہرین ماحولیات نے خوش آئند قرار دیا ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں