حکومت کا دہشتگردی کیخلاف انٹیلیجنس آپریشنز کا دائرہ کار بڑھانے کا فیصلہ
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی و داخلی سلامتی سے متعلق اجلاس میں خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور انٹیلیجنس آپریشنز کا دائرہ کار بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی اور داخلی سلامتی سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں حکومت نے دہشتگردی کیخلاف انٹیلیجنس آپریشنز کا دائرہ کار بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس میں ملکی سلامتی سے متعلق متعدد امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور آئندہ کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔
اجلاس کے دوران گورنر خیبر پختونخوا فیصل کنڈی نے مختلف شعبوں میں اب تک کیے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر صوبے کے 12 اضلاع میں امن و امان کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا، جبکہ اے آر ڈی سی کی اب تک کی کارکردگی بھی زیر غور آئی۔
وزیراعظم نے وفاقی حکومت، صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان کوآرڈینیشن کو مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی تاکہ دہشتگردی کیخلاف مشترکہ کوششیں زیادہ مؤثر انداز میں کی جا سکیں۔ اجلاس میں وفاق کی جانب سے خیبر پختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کے پیکیج پر عمل درآمد کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔
یاد رہے کہ حالیہ عرصے میں صوبے کے کچھ اضلاع میں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر حکومت نے انسداد دہشتگردی کے لیے انٹیلیجنس کی بنیاد پر کارروائیوں کو تیز کرنے پر زور دیا ہے، جس کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید اختیارات اور وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔
اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ حکومتی سطح پر یہ اقدامات قومی سلامتی کی حکمت عملی کا حصہ قرار دیے جا رہے ہیں۔









