around.pk
Tuesday, 3 November 2026
☀ کراچی 30°☀ لاہور 24°⛅ اسلام آباد 20°
دنیا

اسرائیل نے قشم جزیرے پر مبینہ امریکی حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کردی

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے ایران کے قشم جزیرے پر مبینہ امریکی کارروائیوں میں کسی کردار کی تردید کی ہے، جبکہ علاقائی کشیدگی اور معلومات کی کمی کے باعث صورتحال غیر واضح ہے۔

around.pk·1h ago

اسرائیلی فوج نے ایران کے جزیرہ قشم پر مبینہ امریکی حملوں میں اپنے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اس حوالے سے پوچھے گئے سوال کا مختصر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کارروائیوں میں اسرائیل کا کوئی کردار نہیں تھا۔ یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی کے اثرات اور اطلاعات پر بحث جاری ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی میڈیا نے آبنائے ہرمز میں واقع ایرانی جزیرے قشم پر امریکا کی جانب سے خفیہ کارروائیوں کی خبریں شائع کی تھیں۔ ان رپورٹس کی تفصیلات، اہداف اور نوعیت کے بارے میں اب تک واضح معلومات سامنے نہیں آئی ہیں، جس کے باعث مختلف حلقوں میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے یہ تردید ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے حالیہ دنوں میں ایران کے حوالے سے سخت بیانات دیے تھے۔ تاہم فوج کا کہنا ہے کہ قشم جزیرے پر رپورٹ کی گئی کارروائیوں میں اس کا کوئی خفیہ یا براہ راست کردار نہیں ہے۔

واضح رہے کہ قشم ایران کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور آبنائے ہرمز میں اس کی جغرافیائی حیثیت انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔ یہ آبنائے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، جس کی وجہ سے اس خطے میں کسی بھی قسم کی کارروائی یا تنازع بین الاقوامی منڈیوں اور سلامتی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس طرح کی اطلاعات اور فریقین کی جانب سے دیے جانے والے متضاد بیانات علاقائی صورتحال کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔ فی الحال یہ واضح نہیں کہ قشم جزیرے پر مبینہ کارروائیوں کی حقیقت کیا ہے اور ان کے پس پردہ مقاصد کیا ہیں، تاہم اس معاملے پر مزید معلومات کی توقع کی جا رہی ہے۔

اس واقعے کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی توانائی کی رسد اور تجارتی راستوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے بھی اس خطے کی استحکام اہم ہے، کیونکہ یہاں سے گزرنے والے تجارتی راستے توانائی کی درآمدات اور سمندری تجارت سے جڑے ہوئے ہیں۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں