around.pk
Tuesday, 3 November 2026
☀ کراچی 28°☀ لاہور 23°⛅ اسلام آباد 20°
کاروبار

پاکستان ریلویز کا مالی گوشواروں کا پہلی بار بین الاقوامی معیار کے تحت آڈٹ کرانے کا فیصلہ

وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کے مطابق پاکستان ریلویز کے مالی سال 2025-26 کے گوشواروں کا آڈٹ پہلی بار بین الاقوامی مالیاتی رپورٹنگ معیارات کے تحت کیا جائے گا، جس کے لیے عالمی معیار کی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ فرم منتخب کی جائے گی۔

around.pk·1h ago

پاکستان ریلویز نے اپنی مالیاتی شفافیت اور جوابدہی کو مضبوط بنانے کے لیے اہم فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت ادارے کے مالی گوشواروں کا پہلی بار بین الاقوامی مالیاتی رپورٹنگ معیارات کے مطابق آڈٹ کیا جائے گا۔ یہ اقدام وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی کی ہدایت پر عمل میں لایا جا رہا ہے تاکہ ادارے کی مالی کارکردگی کا عالمی معیار پر جانچا جا سکے۔

وزارت ریلوے کے مطابق مالی سال 2025-26 کے گوشواروں کے آڈٹ کے لیے عالمی معیار کی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ فرم کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ اس فرم کا انتخاب مکمل میرٹ پر اور پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قوانین کے مطابق کیا جائے گا، جبکہ پوری کارروائی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ای پیڈز پورٹل کے ذریعے مکمل کی جائے گی۔

یہ پیش رفت اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز ایکٹ 2023 کے تقاضوں سے بھی ہم آہنگ ہے اور اس کا مقصد پاکستان ریلویز میں مالی نظم و ضبط، داخلی کنٹرول اور ادارہ جاتی شفافیت کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ اس سے قبل ادارے کے مالی معاملات پر تنقید کی جاتی رہی ہے، اور یہ اقدام ایسے خدشات کو کم کرنے کی کوشش ہے۔

وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا کہ آزادانہ آڈٹ رپورٹ کی روشنی میں ضروری اور سخت فیصلے کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ریلویز میں شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ادارے کے ایک ایک روپے کا حساب لیا جائے گا۔ انہوں نے بدعنوانی کے خاتمے اور مالی معاملات میں مکمل جوابدہی کو حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل قرار دیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف خود پاکستان ریلویز کی کارکردگی اور اصلاحات کے عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔ وزارت کی کوشش ہے کہ ادارے کو مالی طور پر خودمختار، شفاف اور مستحکم بنایا جائے تاکہ پاکستان ریلویز قومی معیشت میں اپنا مؤثر کردار ادا کر سکے۔

ماہرین کے مطابق بین الاقوامی معیار کے تحت آڈٹ سے ادارے کی مالی رپورٹنگ کا اعتبار بڑھے گا اور سرمایہ کاروں اور متعلقہ اداروں کے لیے شفافیت میں اضافہ ہوگا۔ یہ اقدام عوامی وسائل کے درست استعمال کو یقینی بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں