آسان ٹیکس اسکیم میں رجسٹر نہ ہونے والے دکانداروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے آسان ٹیکس اسکیم میں رجسٹریشن نہ کرانے والے دکانداروں کے خلاف قانونی کارروائی اور جرمانے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو آگاہ کیا۔

وفاقی حکومت نے آسان ٹیکس اسکیم میں رجسٹریشن نہ کرانے والے دکانداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی اور جرمانے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں سامنے آیا، جس کی صدارت چیئرمین کمیٹی نوید قمر نے کی اور جس میں وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے شرکت کی۔
وزیر مملکت نے کمیٹی کو بتایا کہ تاجروں کے تمام مطالبات تسلیم کرنے کے باوجود آسان ٹیکس اسکیم میں توقع کے مطابق رجسٹریشن نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اب حکومت نان فائلر دکانداروں کے خلاف قانونی کارروائی اور جرمانوں کا آغاز کر رہی ہے اور انفورسمنٹ کا مکمل طریقہ کار چند روز میں کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
اجلاس میں چیئرمین کمیٹی نوید قمر نے سوال اٹھایا کہ حکومت کو توقع تھی کہ اس اسکیم سے اسی فیصد دکاندار رجسٹر ہو جائیں گے، اور اگر بیس فیصد بھی رجسٹر نہ ہوئے تو حکومت دوبارہ نقطہ آغاز پر کھڑی ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ دکانداروں کے خلاف انفورسمنٹ کا طریقہ کار کیا ہوگا، جس پر وزیر مملکت نے جواب دیا کہ اس کا تفصیلی خاکہ جلد پیش کیا جائے گا۔
کمیٹی اجلاس میں کمپنیز ترمیمی بل کو کلیئر نہ ہونے پر مؤخر کر دیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی نے ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم کے غلط استعمال پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ اس حوالے سے بریفنگ کے لیے چیئرمین ایف بی آر بھی موجود نہیں، اس لیے بل کو مؤخر کیا جا رہا ہے۔
آسان ٹیکس اسکیم کا مقصد چھوٹے دکانداروں کو آسان طریقے سے ٹیکس نیٹ میں لانا تھا، تاہم متوقع رجسٹریشن نہ ہونے کے بعد حکومت اب سخت اقدامات کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام سے نان فائلر دکانداروں پر دباؤ بڑھے گا اور ٹیکس نیٹ میں شمولیت کی شرح میں اضافہ متوقع ہے۔











