around.pk
Tuesday, 3 November 2026
☀ کراچی 27°⛅ لاہور 23°⛅ اسلام آباد 18°
دنیا

یورپ میں چار مسافر طیاروں کو بم کی دھمکیاں، ہنگامی لینڈنگ ناگزیر

پولینڈ، اسپین اور بلغاریہ میں چار مسافر طیاروں کو بم سے اڑانے کی دھمکیوں کے بعد ہنگامی لینڈنگ کرائی گئی، جن میں برطانیہ سے روانہ ہونے والی دو پروازیں بھی شامل ہیں۔ ابتدائی تفتیش میں کسی طیارے سے دھماکہ خیز مواد برآمد نہیں ہوا۔

around.pk·1h ago

یورپ کے تین ممالک پولینڈ، اسپین اور بلغاریہ میں منگل کی صبح چار مسافر طیاروں کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں موصول ہوئیں، جس کے بعد متعلقہ ہوائی اڈوں پر سیکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے پروازوں کو ہنگامی لینڈنگ پر مجبور کیا گیا۔ ان پروازوں میں برطانیہ سے روانہ ہونے والی دو پروازیں بھی شامل تھیں۔

لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ سے پولینڈ کے دارالحکومت وارسا جانے والی پولش ایئرلائنز کی پرواز میں 181 افراد سوار تھے۔ دھماکہ خیز مواد کی اطلاع ملنے پر طیارے کا رخ وارسا کے موڈلن ہوائی اڈے کی جانب موڑ دیا گیا۔ اسی طرح مانچسٹر سے اسپین کے شہر مرسیا پہنچنے والی ریان ایئر کی پرواز میں 114 مسافر سوار تھے، جہاں لینڈنگ کے بعد پولیس اور بم ڈسپوزل ٹیموں نے طیارے کا تفصیلی معائنہ کیا۔

تیسری پرواز ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن سے پولینڈ آ رہی تھی، جسے بم کی دھمکی کے باعث وارسا کے چوپن ہوائی اڈے پر اتارا گیا۔ اس کے علاوہ اسرائیل سے بلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ پہنچنے والے طیارے کی بھی بم کی اطلاع پر تلاشی لی گئی۔

حکام نے چاروں طیاروں کی جانچ شروع کر دی ہے، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی بھی طیارے سے دھماکہ خیز مواد برآمد نہیں ہوا اور نہ ہی کسی جانی نقصان کی اطلاع ملی ہے۔ سیکیورٹی ادارے واقعے کی مزید تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ دھمکیوں کے پیچھے ملوث عناصر کا سراغ لگایا جا سکے۔

واضح رہے کہ ایک روز قبل بھی لندن سے صوفیہ جانے والی وز ایئر کی پرواز کو بم کی دھمکی ملنے پر ہنگری کے دارالحکومت بڈاپسٹ میں اتارا گیا تھا اور اس طیارے کو ہنگری کے لڑاکا طیاروں نے فضائی تحفظ فراہم کیا تھا۔ یورپی ہوائی اڈوں پر اس نوعیت کی دھمکیوں کے سلسلے نے مسافروں اور ایئرلائنز کے عملے میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

یاد رہے کہ اس قسم کی بم دھمکیاں اکثر وقتی طور پر سیکیورٹی خدشات پیدا کرتی ہیں اور کارروائی مکمل ہونے تک پروازوں کے شیڈول متاثر ہو سکتے ہیں۔ مسافروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ سفر سے قبل اپنی متعلقہ ایئرلائن سے پرواز کی تازہ صورتحال ضرور حاصل کریں۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں