امریکا کے ایران پر ممکنہ حملے پر متحدہ عرب امارات کی پیشگی تیاریاں مکمل
متحدہ عرب امارات کے وزیر توانائی سہیل المزروعی کا کہنا ہے کہ امریکا کی ایران پر ممکنہ کارروائی کی صورت میں ملک اس بار پہلے سے بہتر طور پر تیار ہے اور ماضی کی غلطیوں سے سبق لیا گیا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے امریکا کی جانب سے ایران پر ممکنہ فوجی کارروائی کے پیش نظر اپنی تیاریاں پہلے سے کہیں زیادہ بہتر بنا لی ہیں۔ یہ بات ملک کے وزیر توانائی سہیل المزروعی نے ابوظہبی میں جاری ایک بین الاقوامی نمائش اور کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ان کے مطابق گزشتہ تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے اس بار کشیدہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے زیادہ موثر انتظامات کیے گئے ہیں۔
وزیر توانائی نے واضح کیا کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے حوالے سے آئندہ حکمت عملی کے بارے میں کوئی حتمی پیش گوئی ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کی صورتحال مسلسل بدل رہی ہے، اس لیے کسی بھی نئے واقعے کے لیے چوکس رہنا ضروری ہے۔ تاہم انھوں نے یہ یقین دہانی بھی دی کہ متحدہ عرب امارات ممکنہ جنگ کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک موقع پر کہا تھا کہ وہ وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران کے خلاف فوجی کارروائی نہیں کریں گے، تاہم بعد ازاں انھوں نے دوبارہ ایران کے خلاف کارروائی کا امکان ظاہر کیا۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھی یہ خواہش ظاہر کی ہے کہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف مشترکہ کارروائی کے لیے امریکا اسرائیل کا ساتھ دے۔
ایران نے ماضی میں بھی حملوں کے جواب میں متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور مفادات کو نشانہ بنایا ہے اور آئندہ بھی ایسا کرنے کی دھمکی دی ہے۔ اس پس منظر میں خلیجی ریاست کی جانب سے پیشگی تیاریوں کا اعلان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق خلیجی خطے میں کسی بھی بڑے تنازعے کا اثر توانائی کی منڈیوں اور عالمی معیشت پر بھی پڑ سکتا ہے، جس کے باعث متحدہ عرب امارات سمیت دیگر ممالک اپنے تحفظات کو مضبوط بنانے پر توجہ دے رہے ہیں۔ اس صورتحال پر عالمی سطح پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔









