قطر میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے بعد ایرانی وفد وطن واپس، معاہدے کا مسودہ تیار
قطر کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کے دوران ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، ایرانی وفد مذاکرات کے بعد وطن واپس پہنچ گیا ہے اور مجوزہ امن معاہدے کا مسودہ متعلقہ فریقوں کی رائے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔

قطر کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ جنگ بندی کے لیے جاری سفارتی کوششوں کے دوران ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے بعد ایرانی وفد وطن واپس پہنچ گیا ہے اور اطلاعات کے مطابق مجوزہ امن معاہدے کا مسودہ تیار کر کے متعلقہ فریقوں کی رائے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
مذاکراتی معاملے سے آگاہ ایک سفارت کار کے مطابق ایرانی وفد کی دوحہ سے روانگی کسی ناکامی یا اختلافات کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کا مقصد مجوزہ معاہدے پر رائے حاصل کرنا اور آئندہ ملاقات کے امکان پر غور کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے اور مذاکرات کے دروازے اب بھی کھلے ہیں۔
ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے حالیہ خط کو اہم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس خط میں امریکی مؤقف کا لہجہ نمایاں طور پر تبدیل ہوا ہے، جو ایک مثبت اشارہ ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی امریکی رابطے کی کوشش کو مثبت قدم قرار دیا ہے۔
تاہم تہران نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ اور ایرانی مطالبات کی تسلیم ضروری ہوگا۔ یہ شرط سامنے آنے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات کے خوش آئند ماحول کے باوجود فریقین کے درمیان ابھی کئی اہم نکات پر اتفاق باقی ہے۔
قطر کی ثالثی میں یہ کوششیں ایسے وقت جاری ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر نئے حملے نہ کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق انتخابات کے بعد فوجی کارروائی کا امکان مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ اس صورتحال میں دوحہ میں ہونے والی پیش رفت کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم موقع قرار دیا جا رہا ہے۔
ایران کی جانب سے خلیجی ممالک کے ساتھ دشمنی نہ رکھنے کے اعلان اور مذاکرات کے لیے وفد کی روانگی نے بھی سفارتی حل کی امیدوں کو تقویت دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر معاہدے کا مسودہ تمام فریقوں کی متفقہ رضامندی سے حتمی شکل اختیار کر لے تو اس سے نہ صرف ایران اور امریکا بلکہ پورے خطے میں استحکام پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔










