گورنر راج کے خلاف عوامی احتجاج نہ ہونا بڑا سوالیہ نشان، جماعت اسلامی
جماعت اسلامی کے قائم مقام امیر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے خلاف عوامی احتجاج نہ ہونا بڑا سوالیہ نشان ہے، جبکہ حکومت، اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد کی خلیج کو مذاکرات سے پُر کرنے کی ضرورت ہے۔

جماعت اسلامی کے قائم مقام امیر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت نے لانگ مارچ کے دوران بڑے بڑے دعوے کیے اور حکومت سے مذاکرات بھی ہوئے، تاہم مہم ناکام رہی اور ایمرجنسی و گورنر راج نافذ ہوا، لیکن خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے خلاف عوامی احتجاج نہ ہونا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ یہ بات انہوں نے صوبائی ہیڈکوارٹر مرکز اسلامی پشاور میں منعقدہ ایک اہم اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جس میں صوبے کے ان بارہ اضلاع کے امرا اور ذمہ داران نے شرکت کی جن میں ایمرجنسی نافذ ہے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کے بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود احتجاج نہ ہونے سے غیر مقبول اقدامات کو تقویت ملی اور پی ٹی آئی اپنی حکومت کے خاتمے کے خلاف بھی عوامی سطح پر سامنے نہیں آئی۔ انہوں نے زور دیا کہ صوبے میں ہر قیمت پر عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے اور متاثرہ علاقوں میں امن کا قیام اولین ترجیح ہونا چاہیے، جس کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت حکومت، اداروں اور عوام کے درمیان بداعتمادی کی ایک گہری خلیج موجود ہے، جسے ختم کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کے بجائے بامعنی مذاکرات کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں پسند اور ناپسند کی ڈاکٹرائن کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ سیاسی و سماجی فضا میں استحکام آ سکے۔
نائب امیر جماعت اسلامی نے صوبے کے ایک اہم اور سنگین مسئلے یعنی معدنیات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ معدنی وسائل پر صوبے کا حقِ ملکیت تسلیم کیا جائے اور اس حوالے سے تمام معاملات شفاف انداز میں عوام کے سامنے لائے جائیں۔ اس موقع پر مرکزی نائب امیر پروفیسر محمد ابراہیم خان، صوبائی امرا عبدالواسع، عنایت اللہ خان، عبدالرزاق عباسی، صاحبزادہ ہارون الرشید اور شاہ فیصل آفریدی سمیت دیگر قائدین بھی موجود تھے۔
لیاقت بلوچ نے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات پر بھی بات کی اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کے لیے ضروری ہے کہ افغان حکومت ہوش مندی کا مظاہرہ کرے اور کسی عالمی سازش کا حصہ نہ بنے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی سرزمین دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے اور باہمی تنازعات و مسائل کے حل کے لیے سفارتی رابطوں اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
اجلاس میں صوبائی قیادت نے موجودہ سیاسی صورتحال، ایمرجنسی والے اضلاع کی صورتِ حال اور عوامی مسائل پر تفصیلی غور کیا۔ شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جماعت اسلامی آئینی و قانونی دائرے میں رہتے ہوئے عوام کے حقوق، امن اور فلاح کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔









