سرسبز کھاد استعمال کرنے والے کسانوں کا پنجاب گندم پیداوار مقابلے میں شاندار کامیابی
پنجاب حکومت کے زیرِ اہتمام گندم پیداوار مقابلہ 2025-26 میں سرسبز کھاد استعمال کرنے والے کسانوں نے صوبائی سطح پر پہلی تینوں اور ضلعی سطح پر 120 میں سے 119 پوزیشنز حاصل کر لیں۔

پنجاب حکومت کے زیرِ اہتمام منعقدہ گندم پیداوار مقابلہ 2025-26 میں سرسبز نائٹروفاس اور کیلشیم امونیم نائٹریٹ (CAN) استعمال کرنے والے کسانوں نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صوبائی سطح پر پہلی تینوں پوزیشنز اپنے نام کر لیں، جبکہ ضلعی سطح پر مجموعی طور پر 120 میں سے 119 پوزیشنز بھی اسی گروپ کے کسانوں کے حصے میں آئیں۔ یہ نتائج گزشتہ برس کے مقابلے میں واضح بہتری ظاہر کرتے ہیں، جب سرسبز استعمال کرنے والے کسانوں نے ضلعی سطح پر 120 میں سے 97 پوزیشنز حاصل کی تھیں۔
تقریبِ تقسیمِ انعامات سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کامیاب کسانوں کو مبارکباد دی اور کہا کہ گندم کی پیداوار اور فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لیے اقدامات ملک کی غذائی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے ناگزیر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کے اشتراک سے گندم کے ایک ایک دانے کی خریداری یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے اور کسانوں کو معیاری بیج، جدید ٹیکنالوجی اور زرعی قرضوں تک بہتر رسائی فراہم کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
صوبائی نتائج کے مطابق مظفرگڑھ کے سجاد حسین نے فی ایکڑ 69 من اور 39.4 کلوگرام پیداوار کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی، اٹک کے شفیق احمد نے 69 من اور 39.1 کلوگرام کے ساتھ دوسری جبکہ رحیم یار خان کے محمد اصغر نے 69 من اور 24.1 کلوگرام پیداوار کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی۔ تقریب میں صوبائی سطح کے تینوں کامیاب کسانوں کو ٹریکٹر انعام میں دیے گئے، جبکہ ضلعی سطح پر کامیاب کسانوں کو ہونڈا سی ڈی 70 موٹر سائیکلیں اور ایل ای ڈی ٹی وی پیش کیے گئے۔
ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب افتخار علی ساہو نے اس موقع پر کہا کہ کسان پاکستان کی معیشت اور غذائی سلامتی کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور حکومت کسان دوست پالیسیوں اور بروقت زرعی اقدامات کے ذریعے انہیں سہولیات فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گندم کی امدادی قیمت 4,500 روپے فی من مقرر کرنے کے اعلان اور کسان کارڈ کے ذریعے 15 اکتوبر سے اب تک 10 لاکھ کسانوں کو 150 ارب روپے کے بلا سود قرضوں کی فراہمی سے کاشت کاروں کو معیاری بیج اور کھاد بروقت حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فاطمہ فرٹیلائزر کی ڈائریکٹر مارکیٹنگ اینڈ سیلز رابیل سدوزئی نے کہا کہ سرسبز کا مقصد کسانوں کو بہتر اور باخبر زرعی طریقے اپنانے کی ترغیب دینا ہے تاکہ وہ اپنی زمین کے ہر ایکڑ سے زیادہ پیداوار حاصل کر سکیں، اپنے معاشی حالات بہتر بنا سکیں اور پاکستان کی غذائی سلامتی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ تقریب میں صدر پاکستان کسان اتحاد خالد کھوکھر اور سیکرٹری زراعت پنجاب شکیل احمد میاں سمیت دیگر معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔
ماہرین کے مطابق متوازن کھادوں کا استعمال اور جدید زرعی رہنمائی فی ایکڑ پیداوار بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے، اور اس مقابلے کے نتائج اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ نجی شعبے، حکومت اور کسانوں کے مشترکہ تعاون سے گندم کی پیداوار میں مزید اضافہ ممکن ہے۔











