وزیراعظم اپنا گھر اسکیم: مستفید قرض داروں کی تعداد 1 لاکھ 87 ہزار سے تجاوز کر گئی
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہاؤسنگ، زراعت اور ایس ایم ایز کو ترجیحی قرضوں پر جائزہ اجلاس میں بتایا گیا کہ ہاؤسنگ فنانس کا حجم 455 ارب روپے، زرعی قرضے 1329 ارب روپے اور ایس ایم ای قرضے 1148 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں ترجیحی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی میں سہولت سے متعلق ایک جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں بتایا گیا کہ وزیراعظم اپنا گھر ہاؤسنگ اسکیم سے مستفید ہونے والے قرض داروں کی مجموعی تعداد 1 لاکھ 87 ہزار 317 تک پہنچ گئی ہے۔ اجلاس میں وفاقی وزرا، گورنر اسٹیٹ بینک، ارکان قومی اسمبلی اور کمرشل بینکوں کے سربراہان نے شرکت کی۔
اجلاس کو دی گئی بریفنگ کے مطابق 23 اکتوبر 2026ء تک وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت 511 ارب روپے مالیت کے 86 ہزار 899 قرضوں کی منظوری دی جا چکی ہے، جبکہ 15 ہزار 584 درخواست گزاروں کو 91 ارب روپے کے قرضے جاری کیے گئے ہیں۔ ہاؤسنگ فنانس کے شعبے میں قرضوں کا مجموعی حجم 455 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔
زرعی شعبے میں قرضوں کا حجم 1329 ارب روپے اور مستفید ہونے والے افراد کی تعداد تقریباً 35 لاکھ بتائی گئی، جبکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کے شعبے میں قرضوں کا حجم 1148 ارب روپے اور قرض حاصل کرنے والے کاروباری افراد کی تعداد 3 لاکھ 42 ہزار 458 تک پہنچ گئی ہے۔ مالی سال 2027 کے اختتام تک زرعی اور ایس ایم ای شعبوں میں قرضوں کا حجم 1500 ارب روپے تک لے جانے کے اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ اسٹیٹ بینک ترجیحی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی بڑھانے کے لیے تین بنیادی ستونوں پر کام کر رہا ہے، جن میں ضوابط میں بہتری، حکومت اور بینکوں کے درمیان رسک اور اخراجات میں شراکت داری اور ڈیجیٹل سہولیات کا فروغ شامل ہیں۔ اس سلسلے میں حال ہی میں ایس ایم ایز کے لیے ایس ایم ای کنیکٹ ڈیجیٹل پورٹل کا آغاز کیا گیا ہے، جس کے ذریعے کاروباری افراد قرضوں کے لیے درخواست دے سکتے ہیں اور اس کی پیش رفت بھی دیکھ سکتے ہیں۔
اجلاس میں ہاؤسنگ، زراعت اور ایس ایم ای شعبوں کے لیے رسک شیئرنگ اور کریڈٹ گارنٹی کے اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا، جبکہ قرضوں کے حصول کے طریقہ کار کو آسان بنانے، مطلوبہ دستاویزات میں کمی اور ڈیجیٹل نظام کے ذریعے مالی وسائل تک رسائی بہتر بنانے پر کام جاری ہے۔ تینوں ترجیحی شعبوں میں کمرشل بینکوں کی کارکردگی کے اشاریے بھی پیش کیے گئے۔
وزیراعظم نے کہا کہ چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار، ہاؤسنگ اور زراعت کی ترقی سے معیشت میں بہتری اور نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ ترجیحی شعبوں میں قرضوں کی فراہمی میں سست روی برتنے والے بینکوں کے ساتھ اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کی جانب سے کسی قسم کی رعایت نہ برتی جائے، کیونکہ نجی شعبے کی ترقی کے لیے بینکس کلیدی کردار کے حامل ہیں۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور زرعی اجناس کی ویلیو ایڈیشن کے ذریعے برآمدات میں اضافے کے لیے کوششیں جاری ہیں، جبکہ ایس ایم ایز معیشت کی ترقی، برآمدات کے فروغ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔









