فضل الرحمان کا مطالبہ: قبائلی اضلاع میں معدنیات کے معاہدے عوام کے سامنے لائے جائیں
جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ قبائلی اضلاع کا اصل مسئلہ آئینی نہیں بلکہ وہاں موجود معدنی وسائل ہیں، اور وسائل سے متعلق معاہدے عوامی سطح پر شائع کیے جائیں۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قبائلی اضلاع کے حوالے سے اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان علاقوں کو طویل عرصے تک تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کیا گیا، اور اب انضمام کو ختم کرنے کی تجاویز سامنے آ رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں کا بنیادی مسئلہ آئینی نوعیت کا نہیں بلکہ وہاں موجود معدنی وسائل سے متعلق ہے۔ یہ بات انہوں نے پشاور میں ڈیجیٹل میڈیا ورکرز جمعیت فاٹا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے انضمام کو تقریباً دس سال مکمل ہونے والے ہیں، تاہم اب تک وہاں بندوبستی علاقوں کی طرح کا انتظامی نظام قائم نہیں ہو سکا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اعلیٰ سطح پر انہیں بتایا گیا کہ انضمام کا فیصلہ درست نہیں تھا، اور انہوں نے سوال اٹھایا کہ پہلے یہ فیصلہ کس کے کہنے پر کیا گیا اور اب اسے واپس لینے کی باتیں کس کے اشارے پر ہو رہی ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ انہیں معدنیات کی تلاش اور ترقی پر کوئی اعتراض نہیں، مگر وسائل سے متعلق تمام معاہدے عوام کے سامنے لائے جائیں تاکہ شفافیت قائم رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے قبل بھی وہ نشاندہی کرتے رہے ہیں کہ قبائلی علاقوں میں اصل معاملہ معدنی ذخائر کا ہے۔
جے یو آئی سربراہ نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات دہشت گردی کے بیانیے کی بنیاد پر کیے گئے، لیکن جیسے ہی یہ نافذ ہوئے، دہشت گردی کا شور بھی ختم ہو گیا۔ انہوں نے پوچھا کہ ایک ہی صوبے میں دو الگ نظام کیوں قائم کیے جا رہے ہیں، کیونکہ گورنر راج کے تحت گورنر کونسل وزیراعظم کے ماتحت ہے جبکہ ایمرجنسی والے اضلاع وزارت داخلہ کے ماتحت ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ کوہاٹ کو بھی ایمرجنسی والے اضلاع میں شامل کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کابینہ کے فیصلے صدر مملکت کو بھجوا دیے گئے، لیکن گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ والے دن کابینہ میں ان کی بات تک پیش نہیں کی گئی۔ ایسے حالات میں ریاستی اداروں اور حکمرانوں پر اعتماد کیسے کیا جا سکتا ہے؟ ان کا مطالبہ تھا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ قبائلی عوام کے خدشات دور کرے اور ان کے وسائل کے حوالے سے کیے گئے معاہدے منظرعام پر لائے۔
سیاسی ماحول پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ الزام تراشی اور کردار کشی کی مہم سے سیاسی فضا خراب کی جا رہی ہے، جبکہ وہ اختلاف رائے رکھنے والے اور مکالمے پر یقین رکھنے والے لوگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی گفت و شنید کو ترجیح دی جانی چاہیے اور ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے ضروری ہے کہ ریاست قبائلی عوام کو ان کے وسائل پر اعتماد میں لے۔










