بائنانس پر سائبر حملے کے بعد صارفین نے ایک ہی دن میں 3 ارب ڈالر سے زائد نکال لیے
عالمی کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس نے سائبر حملے کے باعث کاروباری سرگرمیاں معطل کر دی تھیں، بحالی کے بعد صارفین نے بڑی تعداد میں اپنے فنڈز نکالنا شروع کر دیے جس کے نتیجے میں خالص طور پر تقریباً 3.64 ارب ڈالر پلیٹ فارم سے باہر منتقل ہو گئے۔

دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو کرنسی ٹریڈنگ پلیٹ فارم بائنانس نے ایک سائبر حملے کے سبب اپنی تمام کاروباری سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی تھیں، جس کے بعد آپریشنز کی بحالی پر صارفین نے بڑی تعداد میں اپنے فنڈز واپس نکالنا شروع کر دیے۔ رپورٹس کے مطابق ایک ہی روز کے دوران صارفین نے تقریباً 3.64 ارب ڈالر کی رقم پلیٹ فارم سے منتقل کر لی۔
بائنانس کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ بیان کے مطابق یکم نومبر کو گرینیج معیاری وقت کے مطابق صبح 6 بجے سے سہ پہر 3 بج کر 30 منٹ تک صارفین نے مجموعی طور پر 4.649 ارب ڈالر نکالے، جبکہ اسی عرصے میں 1.001 ارب ڈالر کے ڈپازٹس بھی جمع ہوئے۔ اس طرح خالص طور پر تقریباً 3.64 ارب ڈالر کی رقم پلیٹ فارم سے باہر منتقل ہوئی۔
کمپنی کے مطابق رقم نکلوانے کے عمل میں شروع میں غیر معمولی تیزی دیکھی گئی، تاہم بعد ازاں اس میں کمی آئی اور صورتحال اب توقعات کے مطابق مستحکم ہو رہی ہے۔ واضح رہے کہ زیربحث سائبر حملے میں 6 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے ڈیجیٹل اثاثے متاثر ہوئے تھے، جس کے باعث ایکسچینج نے احتیاطی تدابیر کے طور پر کاروباری سرگرمیاں عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
یہ واقعہ عالمی کرپٹو مارکیٹ میں صارفین کے اعتماد سے متعلق سوالات اٹھاتا ہے، کیونکہ بائنانس جیسے بڑے پلیٹ فارم پر بھی تکنیکی و سائبر خطرات کے پیش نظر رقم کی منتقلی کی رفتار اچانک تبدیل ہو سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بڑے پیمانے پر فنڈز نکالنے کا رجحان عموماً کسی بھی ایکسچینج کے لیے لیکویڈیٹی اور آپریشنل دباؤ کا سبب بن سکتا ہے۔
بائنانس نے صارفین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ تمام اثاثے محفوظ ہیں اور نظام کی بحالی کے بعد صورتحال قابو میں ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ سائبر حملے کی نوعیت کیا تھی اور متاثرہ ڈیجیٹل اثاثوں کی مکمل تفصیلات کب تک سامنے آئیں گی۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں کرپٹو کرنسی میں دلچسپی رکھنے والے صارفین کے لیے یہ خبر اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ نشاندہی کرتی ہے کہ ڈیجیٹل اثاثے رکھنے والے افراد کو اپنے فنڈز کی حفاظت اور کسی بھی مرکزی پلیٹ فارم پر انحصار کے حوالے سے احتیاط برتنی چاہیے۔ ماہرین عام طور پر تجویز کرتے ہیں کہ طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے نجی والٹس کا استعمال زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے۔









