around.pk
Monday, 2 November 2026
☁ کراچی 25°☀ لاہور 22°☀ اسلام آباد 18°
پاکستان

سندھ محکمہ آبپاشی میں 23 ارب 95 کروڑ روپے کی بے قاعدگیوں کا انکشاف

آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ میں سندھ محکمہ آبپاشی میں مالی سال 2024-25 کے دوران 23 ارب 95 کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے قاعدگیوں اور ضوابط کی خلاف ورزیوں کا انکشاف ہوا ہے۔

around.pk·1h ago

آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے سندھ محکمہ آبپاشی میں مالی سال 2024-25 کے دوران 23 ارب 95 کروڑ 8 لاکھ روپے کی سنگین مالی بے قاعدگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا انکشاف کیا ہے۔ یہ آڈٹ رپورٹ 54 نکات پر مشتمل ہے جو حتمی کارروائی کے لیے سیکریٹری آبپاشی سندھ کے حوالے کر دی گئی ہے، جس سے صوبائی محکمے کی مالی شفافیت پر سنجیدہ سوالات اٹھ گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ٹھیکوں کی غیر قانونی تقسیم، منظور شدہ قوانین کے خلاف ادائیگیوں اور بلوں کی منظوری میں ضوابط کو نظر انداز کیا گیا۔ آڈٹ حکام نے نشاندہی کی کہ ترقیاتی منصوبوں کی منظوری اور ان پر عملدرآمد کے دوران تمام قانونی مراحل کو بائی پاس کیا گیا، جبکہ ہنگامی کاموں کے بہانے مشکوک اقدامات سے سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔

آڈٹ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ غیر قانونی ٹینڈرز کی قبولیت اور قواعد کے منافی خریداریوں پر آڈٹ حکام نے شدید اعتراضات اٹھائے ہیں۔ اس کے علاوہ سیلابی شگافوں کو بھرنے کے نام پر کروڑوں روپے کے اخراجات ظاہر کیے گئے، تاہم محکمہ آبپاشی ان بھاری اخراجات کے حق میں آڈٹ ٹیم کو کوئی قانونی یا ٹھوس جواز فراہم نہیں کر سکا۔

آڈٹ حکام نے معاملے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی سفارش کی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی بے قاعدگیاں صوبائی محکموں میں مالی نظم و ضبط کی کمزوری اور جوابدہی کے فقدان کی نشاندہی کرتی ہیں، جس سے عوامی وسائل کے ضیاع کا خطرہ بڑھتا ہے۔

واضح رہے کہ آبی وسائل کا شعبہ سندھ کی معیشت اور زراعت کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی مالی بدعنوانی یا غیر شفاف طریقہ کار سے نہ صرف سرکاری خزانے بلکہ کسانوں اور عام عوام کے مفادات کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ محکمہ آبپاشی کی جانب سے آڈٹ اعتراضات پر کیا جواب دیا جاتا ہے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی حد تک کیا اقدامات کیے جاتے ہیں۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں