ایران کا امریکا سے مطالبہ: تحریری وعدے نہیں، عملی اقدامات چاہیے
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے نائب سیکرٹری علی باقری کنی نے کہا ہے کہ امریکا کے تحریری وعدوں پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا اور نئی سفارت کاری سے قبل واشنگٹن کو عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔
یہ خبر اور ہر اہم خبر سب سے پہلے واٹس ایپ پر پائیںaround.pk اردو خبریں چینل — مفت، بغیر سپیم فالو کریں
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے نائب سیکرٹری علی باقری کنی نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے محض تحریری یقین دہانیوں پر انحصار نہیں کیا جا سکتا اور نئی سفارتی مذاکرات کے آغاز سے قبل واشنگٹن کو ٹھوس عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ انہوں نے یہ بات ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔
علی باقری کنی کے مطابق گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران امریکا نے اپنے وعدوں کی متعدد بار خلاف ورزی کی ہے، جبکہ جارحانہ اقدامات کے ذریعے سفارتی کوششوں کے چار مراحل کو ناکام بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ نئے سفارتی مرحلے سے قبل امریکا کی جانب سے صرف تحریری یقین دہانیوں کو کافی نہ سمجھے۔
انہوں نے واضح کیا کہ مزید کسی بھی پیش رفت سے پہلے مذاکرات میں دوسرے فریق کو ایران کی سات نکاتی عملی تجویز پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے اور عالمی سطح پر سفارتی سرگرمیاں تیز ہوئی ہیں۔
علی باقری کنی نے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری میجر جنرل محسن رضائی کے دورہ روس اور صدر ولادیمیر پیوٹن سے تقریباً تین گھنٹے کی طویل ملاقات کا بھی حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی طاقتوں کے ساتھ رابطے ایران کی فعال اور ہدفی سفارت کاری کا اہم حصہ ہیں اور اس مرحلے پر عالمی طاقتوں بشمول روس اور چین کے ساتھ مشاورت کو اسٹریٹجک اہمیت حاصل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ روسی صدر سے ملاقات کے دوران ایران کی دوطرفہ تعاون سے متعلق ترجیحات کا خاکہ پیش کیا گیا اور مستقبل کے روابط کے حوالے سے ایران کا وژن واضح کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقائی سلامتی کے انتظامات کو روس، چین اور خطے کے دیگر ممالک کی حمایت حاصل ہے اور مختلف فریقوں کے ساتھ مشاورت کے ذریعے ان انتظامات کے نفاذ کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
علی باقری کنی نے زور دیا کہ قومی مفادات، قومی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ایران کی تیاری ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی امور اور امن و سلامتی کے قیام کے لیے اسٹریٹجک حکمت عملی اپنانا ضروری ہے تاکہ ایران دنیا کی اہم طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو درست سمت میں آگے بڑھا سکے۔











