around.pk
Monday, 2 November 2026
☀ کراچی 31°☀ لاہور 27°☀ اسلام آباد 24°
دنیا

ایران کے حملوں میں امریکی فوجی اڈوں کو بڑا نقصان، اے پی نے سیٹلائٹ تصاویر جاری کر دیں

ایسوسی ایٹڈ پریس کے تجزیے کے مطابق ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں 26 امریکی فوجی مقامات کو نشانہ بنایا، کویت کے علی السالم ایئر بیس پر 30 سے زائد حملے کیے گئے جبکہ 115 سے زیادہ ڈرون اور میزائل داغے گئے۔

around.pk·1h ago

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے سیٹلائٹ تصاویر اور خطے کے ذرائع کی معلومات کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں واقع امریکی فوجی تنصیبات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا۔ خبر رساں ادارے کے مطابق اس نے مختلف سیٹلائٹ کمپنیوں کی تصاویر کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ خطے کے چار ایسے حکام سے بھی بات کی جو ان حملوں سے ہونے والے نقصانات سے واقف ہیں۔

اے پی کے تجزیے کے مطابق ایران نے پہلے امریکی فضائی دفاعی اور ریڈار نظاموں کو نشانہ بنایا اور اس کے بعد فوجی طیاروں، ہینگرز اور عمارتوں پر حملے کیے۔ رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوران اگست تک ایران نے 115 سے زیادہ ڈرون اور میزائل حملے کیے، جن سے خطے کے 26 فوجی اڈوں اور دیگر مقامات پر موجود امریکی تنصیبات کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہوئیں۔

خبر رساں ادارے کے مطابق سب سے زیادہ حملے کویت میں قائم امریکی فوجی تنصیبات پر کیے گئے۔ کویت کے علی السالم ایئر بیس کو کم از کم 30 مرتبہ نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 15 طیاروں کے ہینگرز، متعدد گودام اور رہائشی علاقے کے قریب دس عمارتیں متاثر ہوئیں۔ کیمپ بوہرنگ کو بھی شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جہاں زیادہ تر طیاروں کے ہینگرز ناقابلِ استعمال ہو گئے۔ یکم مارچ کو کویت کے پورٹ شعیبہ میں ایک ڈرون حملے میں چھ امریکی فوجی ہلاک ہوئے، جسے اے پی نے جنگ کے دوران امریکی فوجیوں پر سب سے ہلاکت خیز معلوم حملہ قرار دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق کویت کے علاوہ بحرین، عراق، اردن، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں بھی امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس اور اردن کے موفق السلطی ایئر بیس پر نصب موبائل ریڈار نظام متاثر ہوئے، جبکہ اے پی کی جاری کردہ تصاویر کے مطابق مارچ میں پرنس سلطان ایئر بیس پر حملے کے دوران امریکی بوئنگ ای تھری سینٹری نگرانی طیارے کا پچھلا حصہ بھی تباہ ہوا۔ بحرین میں امریکی بحریہ کے نیول سپورٹ ایکٹیویٹی مرکز اور قطر میں بھی ریڈار نظاموں کو نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں، جبکہ ابوظہبی کے قریب الظفرہ ایئر بیس جنگ کے ابتدائی دنوں میں بار بار حملوں کی زد میں آیا۔

اے پی کے مطابق خطے کے دو حکام نے بتایا کہ حملوں کے بعد امریکا نے اپنے متعدد فوجی اثاثے خلیجی علاقے سے دوسری جگہوں پر منتقل کر دیے، جن میں طیارے، فضائی دفاعی اور مواصلاتی نظام سمیت وہ سازوسامان شامل ہے جو فوجی اڈوں کو فعال رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ کانگریشنل ریسرچ سروس کی اکتوبر میں اپ ڈیٹ ہونے والی رپورٹ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر مجموعی طور پر 15 امریکی طیارے متاثر ہوئے۔

دفاعی امور کے ماہر رافیل کوہن کے مطابق کم لاگت ڈرونز کے بڑے پیمانے پر حملے جدید فوجی طاقتوں کے لیے بھی ایک اہم خطرہ بن چکے ہیں اور یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک واضح انتباہ ہے۔ واضح رہے کہ امریکی حکام نے ماضی میں اس نوعیت کی تصاویر کی اشاعت کو بعض مواقع پر قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں