around.pk
Saturday, 31 October 2026
☀ کراچی 26°☀ لاہور 21°☀ اسلام آباد 17°
ٹیکنالوجی

اینڈرائیڈ میں ’ایس ایم ایس آف ڈیتھ‘ سیکیورٹی خامی دریافت، صارفین کے لیے ہدایات جاری

سیکیورٹی محقق نے اینڈرائیڈ میں ایک سنگین خامی دریافت کی ہے جس کے ذریعے خصوصی طور پر تیار کردہ ٹیکسٹ پیغام فون کو مسلسل کریش کر سکتا ہے۔ ماہرین نے صارفین کو فوری سیکیورٹی اپ ڈیٹس انسٹال کرنے کی ہدایت کی ہے۔

around.pk·3h ago

اینڈرائیڈ اسمارٹ فونز میں ایک سنگین سیکیورٹی خامی سامنے آئی ہے جسے سیکیورٹی ماہرین نے ’ایس ایم ایس آف ڈیتھ‘ کا نام دیا ہے۔ سیکیورٹی محقق مارک بلاسزک کے مطابق ایک خصوصی طور پر تیار کردہ ٹیکسٹ میسج اینڈرائیڈ سسٹم کو کریش کر سکتا ہے، اور یہ پیغام صارف کے ان باکس میں ظاہر نہیں ہوتا، نہ اس کی کوئی اطلاع موصول ہوتی ہے۔ اس خامی کو CVE-2026-58882 کا نام دیا گیا ہے اور اسے انتہائی سنگین قرار دیا گیا ہے۔

محقق کے مطابق یہ نقصان دہ پیغام فون کالز کو کنٹرول کرنے والے سسٹم کو متاثر کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جاری کالز منقطع ہو سکتی ہیں اور ایمرجنسی سروسز سے ہونے والی کال بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 20 نقصان دہ پیغامات کسی ڈیوائس کو مسلسل کریش ہونے یا بوٹ لوپ میں پھنسنے کا سبب بن سکتے ہیں، جس سے صارف کا فون عملی طور پر ناکارہ ہو جاتا ہے۔

یہ خامی گوگل پکسل اور سام سنگ گلیکسی سمیت متاثرہ اینڈرائیڈ ڈیوائسز میں دیکھی گئی ہے جبکہ اس کا تعلق اینڈرائیڈ 12 سے موجود کوڈ سے ہے۔ محقق نے 5 مئی کو گوگل کو اس مسئلے سے آگاہ کیا تھا، تاہم ان کے مطابق کمپنی نے ابتدائی طور پر اسے سیکیورٹی کا مسئلہ تسلیم نہیں کیا۔ بعد ازاں 29 اکتوبر کو انہوں نے اس خامی کی تفصیلات اور عملی مظاہرہ عوامی سطح پر جاری کر دیا۔

دوسری جانب اینڈرائیڈ کے کوڈ ریکارڈز کے مطابق گوگل نے 15 جون کو ہی اس مسئلے کا حل تیار کر لیا تھا جبکہ جولائی میں سیکیورٹی پری ویوز کے ذریعے یہ حل فراہم بھی کیا گیا۔ محقق کے مطابق گوگل نے اینڈرائیڈ 14 سے 17 تک کے لیے اکتوبر کی سیکیورٹی اپ ڈیٹس میں بھی اس کا حل شامل کر دیا ہے۔

ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے فونز میں تازہ ترین دستیاب سیکیورٹی اپ ڈیٹس فوری طور پر انسٹال کریں کیونکہ پرانے اور غیر اپ ڈیٹ شدہ فونز اب بھی اس خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ صارفین کے لیے یہ بات اہم ہے کہ وہ اپنے آلات کے سیکیورٹی پیچ کی باقاعدگی سے جانچ کریں اور غیر معروف ذرائع سے موصول ہونے والے مشکوک پیغامات کے بارے میں محتاط رہیں۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں