اے آئی اسٹارٹ اپ کا اینتھروپک کے سسٹمز ہیک کرنے کا دعویٰ، کمپنی نے رسائی بند کر دی
امریکی اے آئی اسٹارٹ اپ کیتھیڈرل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بگ باؤنٹی پروگرام کے تحت اینتھروپک کے اندرونی نیٹ ورک تک رسائی حاصل کی، تاہم کمپنی کا کہنا ہے کہ صارفین کا ڈیٹا اور ماڈل کا سورس کوڈ محفوظ رہا۔

امریکا میں قائم مصنوعی ذہانت کے اسٹارٹ اپ کیتھیڈرل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بارہ گھنٹے سے بھی کم وقت میں اینتھروپک کے اندرونی نیٹ ورک میں نقب لگا کر داخلی پیغامات اور ڈیٹا تک رسائی حاصل کر لی۔ کمپنی کے مطابق یہ کارروائی ایک بگ باؤنٹی پروگرام کے تحت کی گئی، جس کا مقصد بیرونی سیکیورٹی ماہرین کو کمپنیوں کے نظام میں موجود خامیوں کی نشاندہی کی ترغیب دینا ہوتا ہے۔
کیتھیڈرل کی بنیاد رواں سال امریکی محکمہ حکومتی کارکردگی کے سابق ملازمین نے رکھی تھی۔ واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس سیکیورٹی خلاف ورزی کے نتیجے میں سلیک پر ہونے والی گفتگو، اجلاسوں کی تحریری روداد، ملازمین کی تنخواہوں اور ملازمت کی پیشکشوں سے متعلق معلومات سامنے آئیں۔
اینتھروپک نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کیتھیڈرل نے کمپنی کے سیلز، ہیومن ریسورس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نظاموں کے ایک محدود حصے تک رسائی حاصل کی تھی۔ تاہم کمپنی کے مطابق صارفین کی کلاؤڈ کے ساتھ ہونے والی گفتگو تک رسائی حاصل نہیں کی گئی اور اے آئی ماڈل کا سورس کوڈ بھی محفوظ رہا۔
کمپنی نے اخبار کو جاری کیے گئے بیان میں بتایا کہ اس کے نگرانی کے نظام نے کیتھیڈرل کی بعض سرگرمیوں کی نشاندہی اس عمل کی اطلاع ملنے سے پہلے ہی کر لی تھی اور اسی روز ان کی رسائی بند کر دی گئی۔ یہ واقعہ اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ جدید اے آئی کمپنیاں بھی بیرونی سیکیورٹی چیلنجز سے محفوظ نہیں رہیں۔
ماہرین کے مطابق بگ باؤنٹی پروگرامز کمپنیوں کے لیے سیکیورٹی خامیوں کی بروقت نشاندہی کا مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم اس طرح کی خلاف ورزیاں اندرونی ڈیٹا کی حفاظت اور صارفین کے اعتماد سے متعلق سوالات بھی اٹھاتی ہیں۔ اینتھروپک کا مؤقف ہے کہ اس نے واقعے کے بعد اپنے نظاموں کی حفاظتی تدابیر کا از سر نو جائزہ لیا ہے۔










