around.pk
Sunday, 1 November 2026
☀ کراچی 27°☀ لاہور 22°⛅ اسلام آباد 20°
ٹیکنالوجی

ریڈ جائنٹ ستاروں کی تباہی سے بچ جانے والے تین سیارے دریافت

چینی سائنس دانوں نے نظامِ شمسی سے باہر تین ایسے سیارے دریافت کیے ہیں جو اپنے ستاروں کے ریڈ جائنٹ بننے کے باوجود تباہ ہونے سے بچ گئے، جو موجودہ سائنسی نظریات کے لیے ایک اہم سوال ہے۔

around.pk·2h ago

چینی ماہرینِ فلکیات نے نظامِ شمسی سے باہر تین ایسے سیارے دریافت کیے ہیں جو اپنے میزبان ستاروں کے ریڈ جائنٹ مرحلے میں داخل ہونے کے باوجود تباہ ہونے سے محفوظ رہے ہیں۔ یہ دریافت اس حوالے سے اہم ہے کہ رائج الوقت نظریات کے مطابق ایسے سیاروں کو اپنے ستاروں میں ضم ہو جانا چاہیے تھا۔

تحقیق کی سربراہی چین کی یونیورسٹی آف یوننان کے پروفیسر چیان شینگ بانگ نے کی، جس میں 24Boo، HD12648 اور TYC4282-605-1 نامی تین سیاروں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ماہرین کے مطابق جب ستارے کے مرکز میں ہائیڈروجن کی مقدار ختم ہو جاتی ہے تو وہ پھیل کر ریڈ جائنٹ بن جاتا ہے اور اس کا حجم کئی لاکھ گنا بڑھ سکتا ہے۔

اس عمل کے دوران قریبی سیارے یا تو ستارے میں نگل لیے جاتے ہیں یا اس کی شدید کششِ ثقل کے باعث تباہ ہو جاتے ہیں۔ تاہم دریافت ہونے والے تینوں سیارے نظریاتی طور پر خطرے کے علاقے میں موجود ہونے کے باوجود آج بھی اپنے مدار میں قائم ہیں۔

محققین نے میزبان ستاروں کی روشنی میں آنے والی معمولی تبدیلیوں کا تجزیہ کر کے ان کی ارتقائی کیفیت کی تصدیق کی۔ پروفیسر چیان شینگ بانگ کے مطابق بیک وقت تین ایسے سیاروں کی دریافت محض اتفاق نہیں بلکہ کسی مشترکہ طبعی عمل کی نشاندہی کرتی ہے۔

اس دریافت سے سیاروں اور ستاروں کے ارتقا سے متعلق موجودہ سائنسی نظریات پر نظرِ ثانی کی ضرورت سامنے آئی ہے اور فلکی طبیعیات میں نئی تحقیق کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ مزید مشاہدوں سے یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ بعض سیارے اتنے شدید کائناتی مظاہر کے باوجود کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ نظامِ شمسی سے باہر سیاروں کی تلاش کے لیے چین کی جانب سے کی جانے والی یہ کوششیں عالمی سطح پر فلکیاتی تحقیق میں نمایاں اضافہ قرار دی جا رہی ہیں۔

سائنس دانوں کا خیال ہے کہ مزید مشاہدوں سے یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ کچھ سیارے اتنے شدید کائناتی مظاہر کے باوجود کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ نظامِ شمسی سے باہر سیاروں کی تلاش کے لیے چین کی جانب سے کی جانے والی یہ کوششیں عالمی سطح پر فلکیاتی تحقیق میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں