around.pk
Sunday, 1 November 2026
☀ کراچی 25°☀ لاہور 20°⛅ اسلام آباد 17°
دنیا

امریکا کا پاکستان کو دہشت گردی کا نشانہ بنتے نہ دیکھنے کا اعلان، مارکو روبیو کا بیان

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ واشنگٹن پاکستان کو دہشت گرد حملوں کا نشانہ بنتے نہیں دیکھ سکتا اور افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی پر پاکستان کے تحفظات کی حمایت کرتا ہے۔

around.pk·2h ago

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا پاکستان کو دہشت گرد حملوں کا نشانہ بنتے نہیں دیکھ سکتا اور افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے حوالے سے اسلام آباد کے تحفظات کی واشنگٹن حمایت کرتا ہے۔ یہ بیان اٹلانٹا میں جی 20 وزرائے خارجہ کے اجلاس کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کے دوران سامنے آیا۔

مارکو روبیو کے مطابق پاکستان طویل عرصے سے یہ تشویش ظاہر کر رہا ہے کہ اس کی سرحد پار سے دہشت گردانہ کارروائیاں کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف یہ ہے کہ افغان طالبان نے اپنی سرزمین سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے، جس کے نتیجے میں پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ واشنگٹن پاکستان کے سیکیورٹی خدشات کو سنجیدگی سے لے رہا ہے اور یہ نہیں چاہتا کہ پاکستان مسلسل دہشت گردی کا شکار رہے۔ مبصرین کے مطابق ان کے اس بیان کو دہشت گردی کے معاملے پر پاکستان کے مؤقف کی امریکی حمایت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ یہ اجلاس کسی مشترکہ نتیجے یا قرارداد پر پہنچے بغیر ختم ہوا، تاہم اس دوران دو طرفہ اور علاقائی امور پر گفتگو جاری رہی۔ پاکستان کی جانب سے بار بار یہ موقف اختیار کیا جاتا رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے اور اس حوالے سے کابل کے ساتھ براہ راست مذاکرات بھی کیے جا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ حالیہ عرصے میں پاکستان کے مختلف علاقوں خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس پر سکیورٹی اداروں نے سرحد پار ٹھکانوں کے خلاف کارروائیاں بھی کی ہیں۔ ماہرین کے مطابق امریکی وزیر خارجہ کا یہ بیان اس حوالے سے سفارتی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو تقویت دیتا ہے۔

دوسری جانب علاقائی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے سرحدی سکیورٹی کے معاملے پر ٹھوس اقدامات نہ اٹھانا طویل مدت میں خطے کے امن کے لیے چیلنج بن سکتا ہے۔ امریکی مؤقف سامنے آنے کے بعد یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آئندہ دنوں میں کابل کی جانب سے اس حوالے سے کوئی عملی ردعمل سامنے آتا ہے یا نہیں۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں