around.pk
Sunday, 1 November 2026
☀ کراچی 27°☀ لاہور 22°⛅ اسلام آباد 20°
دنیا

جرمنی میں مہنگائی اور تعلیمی بجٹ کے خلاف ہزاروں نوجوانوں کے مظاہرے، کئی شہروں میں کشیدگی

جرمنی کے بڑے شہروں میں تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار نوجوانوں نے مہنگائی، تعلیمی اداروں کے لیے ناکافی فنڈز اور دیگر مسائل کے خلاف احتجاج کیا، بعض مقامات پر مظاہرے پرتشدد ہو گئے۔

around.pk·1h ago

جرمنی کے متعدد بڑے شہروں میں مہنگائی اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف ہزاروں نوجوانوں نے سڑکیں پر احتجاج کیا۔ منتظمین کے مطابق ملک بھر میں جاری مظاہروں میں تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار افراد نے شرکت کی، جن کا مرکز برلن، فرینکفرٹ، کولون اور میونخ جیسے بڑے شہر رہے۔

یہ احتجاجی تحریک بنیادی طور پر نوجوان نسل کی قیادت میں سامنے آئی ہے۔ شرکاء نے مہنگائی میں اضافے، تعلیمی اداروں کو فراہم کیے جانے والے ناکافی فنڈز، ماحولیاتی مسائل اور لازمی فوجی سروس دوبارہ رائج کرنے کی ممکنہ تجویز کے خلاف آواز بلند کی۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان کے مستقبل سے متعلق فیصلوں میں انہیں نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

ملک کے کئی مقامات پر احتجاج پرامن نہیں رہ سکا۔ کولون میں مظاہرین کی جانب سے آتش بازی کے مواد کے استعمال پر پولیس نے واٹر کینن کا استعمال کیا، جبکہ ہیمبرگ میں رکاوٹیں جلانے اور امدادی کارکنوں پر حملوں کے بعد فسادات پر قابو پانے والی پولیس کو طلب کرنا پڑا۔

فرینکفرٹ میں پولیس کے مطابق مظاہرین نے امدادی اہلکاروں پر پیٹرول بم پھینکے اور دکانوں کے شیشے توڑ دیے، جس کے نتیجے میں زیل شاپنگ اسٹریٹ کا ایک حصہ بند کرنا پڑا۔ پولیس نے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کرنے کے ساتھ دو ہتھیار بھی برآمد کیے۔ دیگر شہروں میں بھی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا گیا۔

تحریک کے منتظمین نے واضح کیا ہے کہ ان کا مقصد پرامن احتجاج کے ذریعے حکومتی پالیسیوں پر دباؤ ڈالنا ہے۔ ان کے مطابق نوجوان نسل اپنے مطالبات کے حل کے لیے مکالمے کی خواہاں ہے اور یہ مظاہرے اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔

واضح رہے کہ یورپ میں مہنگائی کے خلاف احتجاجی تحریکیں کئی ممالک تک پھیل رہی ہیں۔ جرمنی میں نوجوانوں کی اس بڑی شرکت نے حکومت کے لیے یہ پیغام دیا ہے کہ معاشی دباؤ اور تعلیمی و سماجی مسائل پر توجہ نہ دینے کی صورت میں عوامی غصہ مزید بڑھ سکتا ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں