around.pk
Saturday, 31 October 2026
☀ کراچی 25°☀ لاہور 19°⛅ اسلام آباد 16°
دنیا

ایران کا دعویٰ: امریکا کے خط میں لہجہ نرم، مذاکرات کا امکان روشن

ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ امریکی نائب صدر کے خط میں مؤقف اور لہجہ نمایاں طور پر نرم ہوا ہے، تاہم تہران نے ابھی اس خط کا جواب نہیں دیا۔

around.pk·1h ago

ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے بھیجے گئے خط میں امریکا کا لہجہ اور مؤقف نمایاں طور پر نرم ہوا ہے۔ ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی حکام کے رویے میں مکمل تبدیلی دیکھی جا رہی ہے، جسے وہ ایک مثبت علامت قرار دیتے ہیں۔

رضائی کے مطابق یہ نرمی اس بات کا اشارہ ہے کہ ایرانی عوام نے اپنے مؤقف میں کامیابی حاصل کی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران نے تاحال امریکی نائب صدر کے اس خط کا کوئی جواب نہیں دیا ہے اور تہران کی جانب سے فی الحال کوئی حتمی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے محسن رضائی نے کہا کہ تہران نے ابھی تک اپنے جوہری نظریے یا پالیسی میں تبدیلی کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ ان کے اس بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کی جانب سے جوہری معاملات پر اپنا موجودہ مؤقف برقرار رکھا گیا ہے۔

واشنگٹن اور تہران کے درمیان ممکنہ سفارتی رابطوں کے حوالے سے کچھ پیش رفت کے اشارے مل رہے ہیں، لیکن دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اختلافات اور جوہری پروگرام سے متعلق معاملات اب بھی اہمیت کے حامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق خط کے لہجے میں نرمی کا تذکرہ مثبت ہے، تاہم اسے حتمی پیش رفت قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

یاد رہے کہ ایران اور امریکا کے تعلقات کئی برسوں سے کشیدگی کا شکار ہیں اور جوہری معاہدے سمیت متعدد امور پر دونوں ممالک کے مؤقف میں واضح فرق موجود ہے۔ ایرانی حکام کی جانب سے دیے گئے بیانات میں اس وقت تک کوئی واضح وقت یا مذاکراتی فارمولا سامنے نہیں آیا، جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ آئندہ دنوں میں کوئی براہ راست رابطہ ممکن ہو سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایرانی سکیورٹی چیف کا بیان سفارتی ماحول کو نرم کرنے کی کوشش قرار دیا جا سکتا ہے، تاہم اصل پیش رفت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ تہران اپنے تحفظات کے ساتھ ساتھ مذاکرات کے لیے کس حد تک تیار ہوتا ہے اور واشنگٹن کی جانب سے عملی اقدامات کیا سامنے آتے ہیں۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں