around.pk
Saturday, 31 October 2026
☀ کراچی 25°☀ لاہور 19°☀ اسلام آباد 16°
دنیا

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی کے امکانات، ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی کوششیں تیز

قطر کے ثالث دوبارہ تہران پہنچ گئے، امریکی نمائندے ٹام باراک کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اور تہران فوجی کشیدگی میں کمی کے معاہدے کے بہت قریب ہیں، جبکہ ایران نے اپنی سات شرائط پر موقف برقرار رکھا ہے۔

around.pk·1h ago

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر سفارتی کوششیں زوروں پر ہیں، تاہم فریقین کی جانب سے ملے جلے اشارے ملنے اور عالمی ذرائع ابلاغ کی جانب سے واضح نتیجے کی خبریں نہ آنے کے باعث صورت حال اب بھی غیر یقینی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو مسلسل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ایران کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں، لیکن امریکی صدر اس اقدام پر آمادہ نہیں کیونکہ انھیں ملکی سطح پر خاصی مزاحمت کا سامنا ہے۔

دوسری جانب ایرانی قیادت اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی ہے۔ ایران امریکا کے ساتھ بات چیت اور کسی معاہدے پر آمادہ ضرور ہے، تاہم اس کا مطالبہ ہے کہ یہ معاہدہ باوقار ہونا چاہیے۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق ممکنہ معاہدے کی کوششوں کے سلسلے میں قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے سینئر مشیر کی قیادت میں قطر کے ثالث جمعے کو دوبارہ ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے ہیں۔

ترکیہ میں امریکا کے سفیر اور شام و عراق کے لیے صدر ٹرمپ کے خصوصی نمائندے ٹام باراک نے ایک امریکی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں بتایا ہے کہ واشنگٹن اور تہران فوجی کشیدگی میں کمی سے متعلق ایک معاہدے تک پہنچنے کے بہت قریب ہیں۔ انھوں نے قطر، پاکستان اور امریکا کے دیگر اتحادیوں کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔ ماضی میں بھی کئی مواقع پر تنازع کے حتمی حل کی امید پیدا ہوئی، مگر ہر بار کوئی نہ کوئی رکاوٹ درمیان میں آ گئی۔ اب یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملے اور بحیرہ احمر میں کارروائیاں بھی اس تنازعے کا حصہ بن گئی ہیں۔

یمن کے حوثیوں کو ایران کی پراکسی تصور کیا جاتا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ایران کے کہنے پر کارروائیاں کر رہے ہیں اور ایران ان کی مدد بھی کر رہا ہے۔ تاہم ایرانی حکومت کا موقف ہے کہ وہ حوثیوں کی مدد نہیں کر رہی۔ ثالثی کی کوششیں کس حد تک کامیاب ہوں گی، اس حوالے سے فی الحال کوئی حتمی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت کے لیے تہران کی سات شرائط تسلیم کرنا ہی واحد راستہ ہے۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران پر دباؤ ڈال کر معاہدہ کرانے کی کوششیں بھی جاری ہیں، لیکن قالیباف نے واضح کیا کہ ایسی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی اور ایران کی پیش کردہ شرائط کو کسی صورت تسلیم کرنا ہو گا۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے ڈپٹی چیف مصطفی ایزدی نے بھی ایرانی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

آبنائے ہرمز ایران کے پاس ایک اہم کارڈ ہے، جسے وہ کسی بھی وقت استعمال کر سکتا ہے اور جس سے عالمی تجارت متاثر ہوتی ہے۔ اسی دوران ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایرانی قومی سلامتی کے سربراہ محسن رضائی سے براہ راست ملاقات کی پیشکش کی ہے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ امریکی انتظامیہ کے نزدیک محسن رضائی کسی معاہدے پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے اہم شخصیت ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ایران کو نائب صدر جے ڈی وینس کا خط موصول ہو گیا ہے، تاہم تہران نے ابھی تک باضابطہ جواب نہیں دیا۔

ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے صرف فوجی کشیدگی میں کمی کافی نہیں بلکہ فریقین کو اعتماد سازی کے اقدامات اور باہمی مفاہمت کی جانب بھی پیش قدمی کرنی ہو گی۔ عالمی منڈیوں اور توانائی کی فراہمی کے لیے یہ بات انتہائی اہم ہے کہ تنازعے کا حل سفارتی ذرائع سے تلاش کیا جائے، کیونکہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں