around.pk
Friday, 6 November 2026
☀ کراچی 35°☀ لاہور 28°⛅ اسلام آباد 25°
دنیا

ٹرمپ کی ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے امکان پر قومی سلامتی ٹیم سے مشاورت

وائٹ ہاؤس میں بدھ اور جمعرات کو اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوئے جن میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں اور جنگ دوبارہ شروع کرنے کے امور پر غور کیا گیا، تاہم کسی نئے آپریشن کی منظوری کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی۔

around.pk·1h ago

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے امکان پر اپنی قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ اہم مشاورت کی ہے۔ امریکی حکام نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وائٹ ہاؤس میں بدھ اور جمعرات کو اعلیٰ سطح کے اجلاس منعقد ہوئے جن میں ممکنہ فوجی کارروائیوں اور جنگ کے دوبارہ آغاز سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔

امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کے مطابق ان اجلاسوں میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی اقدامات پر غور کیا گیا، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ مشاورت کے دوران کون سے فیصلے کیے گئے یا کسی نئے آپریشن کی منظوری دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی مرکزی کمانڈ بھی متعلقہ امور کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہے۔

فاکس نیوز نے اپنی رپورٹ میں 9 نومبر کو مشرقِ وسطیٰ میں نئے چاند کا حوالہ بھی دیا ہے۔ اس رات چاندنی نہ ہونے یا انتہائی کم ہونے کے باعث اندھیرا زیادہ ہوگا، اور رپورٹ کے مطابق ایسی ماحولیاتی صورتِ حال بعض فوجی کارروائیوں کے لیے فائدہ مند سمجھی جاتی ہے۔ تاہم چاند کی اس کیفیت کو کسی ممکنہ امریکی حملے کی حتمی تاریخ یا کارروائی کے منصوبے کی تصدیق نہیں سمجھا جا سکتا۔

اس سے قبل جمعرات کو اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ واشنگٹن ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کے بارے میں جلد فیصلہ کرے گا۔ ان کے اس بیان اور قومی سلامتی ٹیم کے اجلاسوں کے بعد خطے میں دوبارہ فوجی کشیدگی بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی حکومت کی جانب سے کسی نئے حملے کا باضابطہ اعلان اب تک سامنے نہیں آیا، اور معاملے کی حتمی نوعیت صرف سرکاری اعلان کے بعد ہی واضح ہو گی۔ خطے کی صورتِ حال پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کا اثر عالمی منڈیوں اور توانائی کی فراہمی پر بھی پڑ سکتا ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں