پاکستان میں بچوں کا آن لائن استحصال: سوشل میڈیا کے خطرات اور والدین کی ذمہ داری
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے کراچی میں ایک 13 سالہ بچی کو خطرناک آن لائن گروپ کے جال سے بچایا، جبکہ یونیسیف اور انٹرپول کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 15 لاکھ بچے آن لائن استحصال کا شکار ہوئے۔

پاکستان میں بچوں کے آن لائن تحفظ کا معاملہ ایک بار پھر شدید تشویش کا باعث بن گیا ہے، جب نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے کراچی میں ایک 13 سالہ بچی کو ایک خطرناک آن لائن نیٹ ورک کے جال سے بچایا۔ حکام کے مطابق بچی سوشل میڈیا کے ذریعے ایسے گروپ تک پہنچی جس کے ارکان اسے نقصان دہ سرگرمیوں پر مجبور کر رہے تھے، اور اطلاعات کے مطابق اسے ہدایات دی جا رہی تھیں کہ وہ خود کو نقصان پہنچائے۔ ایجنسی نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بچی کے والدین کو آگاہ کیا اور اسے مزید نقصان سے محفوظ رکھا۔
یہ واقعہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اس نے بچوں کے انٹرنیٹ استعمال، آن لائن دوستیوں، خفیہ گروپس اور والدین کی نگرانی سے متعلق کئی بنیادی سوالات کو جنم دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خطرناک گروپوں کا رابطہ صرف ڈارک ویب تک محدود نہیں بلکہ روزمرہ استعمال ہونے والے سوشل میڈیا اور میسجنگ پلیٹ فارمز پر بھی ایسے نیٹ ورک فعال ہو سکتے ہیں، جہاں بچوں کو بتدریج دباؤ میں لے کر مطلوبہ سرگرمیوں میں شامل کیا جاتا ہے۔
یونیسیف، ایکسپٹ انٹرنیشنل اور انٹرپول کی جانب سے جاری کردہ ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں 12 سے 17 سال کی عمر کے انٹرنیٹ استعمال کرنے والے تقریباً ہر 16 میں سے ایک بچے نے ایک سال کے دوران ٹیکنالوجی کے ذریعے جنسی استحصال یا بدسلوکی کی کم از کم ایک صورت کا سامنا کیا۔ رپورٹ میں ایسے بچوں کی مجموعی تعداد تقریباً 15 لاکھ بتائی گئی ہے، جو ملکی معاشرے کے لیے ایک سنگین انتباہ ہے۔ ان واقعات میں ناپسندیدہ پیغامات، نجی تصاویر کی درخواست، بلیک میلنگ اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے جعلی مواد کی تیاری جیسے پہلو شامل ہیں۔
تحقیق کے مطابق متاثرہ بچوں میں سے نصف سے زیادہ نے اپنے تجربے کے بارے میں کسی کو آگاہ نہیں کیا، اور کسی نے ہیلپ لائن، سماجی کارکنوں یا پولیس جیسے رسمی ذرائع سے مدد بھی حاصل نہیں کی۔ مزید برآں، تقریباً 85 فیصد واقعات میں مبینہ مرتکب شخص وہ تھا جسے بچہ پہلے سے جانتا تھا، جو اس عام خیال کو چیلنج کرتا ہے کہ آن لائن خطرہ صرف کسی نامعلوم اجنبی کی طرف سے ہوتا ہے۔ پہلے سے واقف شخص آن لائن رابطے کے ذریعے اعتماد حاصل کر کے اس کا غلط استعمال کر سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان میں بچوں کے استحصال سے متعلق واقعات سامنے آئے ہوں۔ ماضی میں قصور کے علاقے حسین خان والا میں بچوں کے جنسی استحصال اور ویڈیوز بنانے کا بڑا اسکینڈل سامنے آیا تھا، جبکہ 2017 میں بچوں کے استحصالی مواد کے بین الاقوامی نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو سات سال قید اور 12 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ عالمی سطح پر بھی آن لائن استحصال کے واقعات میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں کینیڈا اور انگلینڈ جیسے ممالک میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران پولیس کو رپورٹ ہونے والے واقعات کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے والدین کا فعال کردار ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق بچوں کی موبائل اور سوشل میڈیا سرگرمیوں کی روزانہ بنیادوں پر نگرانی، کھلی گفتگو اور اعتماد کا ماحول فراہم کرنا ضروری ہے، کیونکہ ایسے کسی بھی رابطے کی کمی کا فائدہ سائبر جرائم میں ملوث افراد اٹھا سکتے ہیں۔ بچوں میں تجسس کی فطری کیفیت کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے انہیں محفوظ اور مثبت ڈیجیٹل ماحول فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔










