ویان مولڈر کو برائن لارا کا عالمی ریکارڈ توڑنے سے روکنے کی وجہ سامنے آگئی
جنوبی افریقہ کے ہیڈ کوچ شکری کونراڈ نے انکشاف کیا کہ ویان مولڈر کو برائن لارا کے 400 رنز ناٹ آؤٹ کے ریکارڈ کو توڑنے سے روکنے کی وجہ کھلاڑی کے ذہنی سکون اور مستقبل کو تحفظ دینا تھا۔
یہ خبر اور ہر اہم خبر سب سے پہلے واٹس ایپ پر پائیںaround.pk اردو خبریں چینل — مفت، بغیر سپیم فالو کریں
جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ شکری کونراڈ نے بتایا ہے کہ گزشتہ سال زمبابوے کے خلاف ٹیسٹ میچ میں ویان مولڈر کو برائن لارا کے 400 رنز ناٹ آؤٹ کے عالمی ریکارڈ کو توڑنے سے روکنے کے پیچھے میچ کی صورتحال کے بجائے کھلاڑی کی ذہنی اور پیشہ ورانہ بہتری کا تحفظ تھا۔ اس میچ میں مولڈر نے 367 رنز ناٹ آؤٹ کی شاندار اننگز کھیلی تھی، لیکن کوچ کے مشورے پر انہوں نے مزید بیٹنگ نہ کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے باعث ویسٹ انڈیز کے لیجنڈ بلے باز لارا کا تاریخی ریکارڈ برقرار رہا۔
کونراڈ کے مطابق انہیں خدشہ تھا کہ عالمی ریکارڈ قائم کرنے کے بعد ہر میچ میں مولڈر پر غیر معمولی دباؤ ہوگا اور چند ناقص اننگز کے بعد بھی ان کی کارکردگی کا موازنہ اسی تاریخی اننگز سے کیا جاتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے مولڈر سے سوال کیا تھا کہ کیا وہ پوری زندگی عالمی ریکارڈ ہولڈر ہونے کا بوجھ اٹھانے کے قابل ہوں گے، اور یہی سوچ ان کے فیصلے کی بنیاد بنی۔
یہ فیصلہ درست ثابت ہوا، کیونکہ مولڈر نے حال ہی میں آسٹریلیا کے خلاف ہوم ٹیسٹ سیریز میں اہم کردار ادا کیا۔ کیپ ٹاؤن ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں ان کی 115 رنز کی اننگز کی بدولت جنوبی افریقہ نے آسٹریلیا کو 176 رنز سے شکست دے کر سیریز 1-2 سے اپنے نام کی۔
اعداد و شمار کے مطابق مولڈر اب تک 27 ٹیسٹ میچز میں 1440 رنز بنانے کے ساتھ 48 وکٹیں بھی حاصل کر چکے ہیں، جو ان کی آل راؤنڈر صلاحیتوں کا مظہر ہے۔ ان کی یہ کارکردگی جنوبی افریقہ کی ٹیم کے لیے بلے بازی اور گیند بازی دونوں شعبوں میں قیمتی اثاثہ ثابت ہو رہی ہے۔
واضح رہے کہ برائن لارا نے 2004 میں انگلینڈ کے خلاف 400 رنز ناٹ آؤٹ کی تاریخی اننگز کھیلی تھی، جو ٹیسٹ کرکٹ میں انفرادی بلے بازی کا سب سے بڑا اسکور ہے۔ مولڈر کا اس ریکارڈ کے قریب پہنچنا اور پھر رک جانا کرکٹ دنیا میں ایک اہم موضوع بنا رہا۔
اب تک کی کہانی جنوبی افریقہ
- عثمان خواجہ کا انکشاف: بال ٹیمپرنگ اسکینڈل میں پوری آسٹریلوی ٹیم ملوث تھی
- تین ملکی ون ڈے سیریز جیتنے کے بعد پاکستان کی عالمی رینکنگ میں بہتری، چوتھے نمبر پر پہنچ گیا








