around.pk
Saturday, 7 November 2026
☀ کراچی 27°☀ لاہور 22°☀ اسلام آباد 18°
پاکستان

گورنر خیبرپختونخوا کا صحت کے شعبے پر زور، دہشت گردی کے خلاف انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز جاری

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں دہشت گردوں کے خلاف انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں مگر ابھی فل فلیج آپریشن کا کوئی ارادہ نہیں، جبکہ صحت کی سہولیات تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔

around.pk·2m ago

خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے پشاور کے ایک نجی ہوٹل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں، تاہم ابھی فل فلیج آپریشن شروع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نادرا دفتر کے سامنے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے قتل کی تحقیقات جاری ہیں اور اس واردات میں ملوث ہر فرد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

گورنر نے کہا کہ پولیو ورکرز کی بازیابی اور تحفظ کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق جب بھی پولیو کے خاتمے کے لیے مہم چلائی جاتی ہے تو کارکنوں پر حملے سامنے آتے ہیں، اور افغانستان میں پولیو کے کیسز میں اضافے کے بعد اب خیبرپختونخوا پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومت کے دور میں کرپشن کے کیسز سامنے آئے ہیں جن کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ان کا موقف تھا کہ ہر محکمے میں کی گئی مبینہ کرپشن کی انکوائری کی جا رہی ہے تاکہ صرف ٹھوس ثبوتوں کی بنیاد پر کارروائی ہو اور کسی بے گناہ کو سزا نہ دی جائے۔

صحت کے شعبے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ معیاری طبی سہولیات تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق اور معاشرتی ترقی کی بنیاد ہے، اور صحت مند آبادی ہی مضبوط معیشت اور فعال افرادی قوت کی ضمانت ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں طبی انفرا اسٹرکچر کی بہتری، جدید آلات کی فراہمی اور اسپیشلائزڈ علاج تک رسائی بڑھانا بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔

گورنر نے کہا کہ معیاری طبی سہولیات کا حصول صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ صوبے کے تمام اضلاع میں یکساں سہولیات فراہم کرنا ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے میڈیکل کالجوں اور تدریسی اسپتالوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ طبی تحقیق، اعلیٰ پیشہ ورانہ تربیت اور پوسٹ گریجویٹ تعلیم کے فروغ پر بھی توجہ دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا نے دہشت گردی، نقل مکانی اور طویل بدامنی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا کیا ہے جس کی وجہ سے صحت سمیت بنیادی عوامی خدمات کے نظام پر اضافی دباؤ پڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان ڈاکٹروں کو اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتیں نکھارنے کے مواقع فراہم کیے جائیں، کیونکہ ہم ایک مضبوط اور نکھرتے ہوئے خیبرپختونخوا کے خواہاں ہیں اور معیاری نظام صحت اس خواب کی تعبیر کا لازمی حصہ ہے۔

اب تک کی کہانی فیصل کریم کنڈی

  1. پشاور اور لاہور کے درمیان 9 نومبر سے براہِ راست فضائی سروس کا اعلان
  2. خیبرپختونخوا کو وفاق سے 160 ارب روپے کا پیکج مل گیا، گورنر فیصل کریم کنڈی
پوری ٹائم لائن دیکھیں →

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں