around.pk
Sunday, 8 November 2026
☀ کراچی 33°☀ لاہور 29°☀ اسلام آباد 26°
پاکستان

گورنر خیبرپختونخوا کا اعلان: ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے مذاکرات نہیں ہوں گے

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں امن و امان اولین ترجیح ہے، پولیس کو جدید اسلحہ اور بہتر سہولیات فراہم کی جائیں گی اور ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے کوئی مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔

around.pk·7m ago

خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے سیکیورٹی سے متعلق ایک بریفنگ کے بعد شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور امن و امان کا قیام حکومت کی سب سے بڑی ترجیح ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑا ایپکس کمیٹی کا اجلاس پشاور میں وزیراعظم اور اعلیٰ حکام کی موجودگی میں منعقد ہوا، جس میں صوبائی حکومت نے سیکیورٹی ضروریات کے لیے 160 ارب روپے کا مطالبہ کیا اور وفاق نے اس کی تائید کی۔

گورنر نے کہا کہ سیکیورٹی اور ترقیاتی امور پر وفاق کے ساتھ رابطہ کاری جاری ہے اور اس سلسلے میں فالو اپ اجلاس اسلام آباد میں منعقد کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے شانہ بشانہ کھڑے رہنے کا عزم ہے اور پولیس کو محض کلاشنکوف اور محدود گولیوں کے سہارے نہیں چھوڑا جا سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ شہداء پیکجز اور تنخواہوں میں بہتری کے ساتھ پولیس کو جدید اسلحہ اور ایمونیشن فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے ضم شدہ اضلاع میں تاحال ایک بھی پولیس لائن نہ بننے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ سیکیورٹی فورسز کو مکمل طور پر اون نہ کرنا ماضی کی سب سے بڑی خامی تھی۔ اب سیکیورٹی کی مکمل سیاسی اونرشپ لی جائے گی اور صوبے میں امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کی پالیسی اب اسلام آباد سے آئے گی، جلال آباد، قندھار یا کابل سے نہیں۔

گورنر نے کہا کہ صوبوں کے درمیان بہتر رابطہ کاری کے تحت پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے مثبت اقدامات کو اپنایا جائے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف انڈیا کی سہولت کاری کے لیے استعمال ہو رہی ہے، اور افغان حکام کی جانب سے پشاور پر قبضے جیسے بیانات اور ڈرون کی آمد پر ماضی میں خاموشی افسوسناک تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست، آئین اور قانون کو نہ ماننے اور ہتھیار اٹھانے والوں کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ہتھیار اٹھانے والے عناصر کو اسی کی زبان میں جواب دیا جائے گا اور دہشت گردوں کے خلاف زیرو ٹالرینس کی پالیسی نافذ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی کام، سڑکیں اور پل تبھی مفید ہیں جب انسان اور عوام کی زندگی محفوظ ہو، اور عوام کا اعتماد بحال کر کے اور پولیس و عوام کا رابطہ مضبوط بنا کر آدھی جنگ جیتی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف کرنا ترجیح ہے اور اس جنگ میں شکست یا واپسی کا کوئی آپشن نہیں۔

واضح رہے کہ گورنر کے اس بیان میں سیکیورٹی اداروں کی مضبوطی، پولیس کی بہتر تربیت اور وسائل کی فراہمی پر زور دیا گیا ہے، جبکہ صوبائی حکومت کی جانب سے وفاق سے مزید تعاون کی درخواست بھی سامنے آئی ہے۔ ماہرین کے مطابق امن و امان کے قیام کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور عوامی اعتماد کی بحالی دونوں پہلوؤں پر یکساں توجہ ضروری ہے۔

اب تک کی کہانی فیصل کریم کنڈی

  1. پشاور میں نادرا اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے قتل کی تحقیقات میں اہم پیش رفت
  2. گورنر خیبرپختونخوا کا صحت کے شعبے پر زور، دہشت گردی کے خلاف انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز جاری
  3. پشاور اور لاہور کے درمیان 9 نومبر سے براہِ راست فضائی سروس کا اعلان
  4. خیبرپختونخوا کو وفاق سے 160 ارب روپے کا پیکج مل گیا، گورنر فیصل کریم کنڈی
پوری ٹائم لائن دیکھیں →

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں