around.pk
Thursday, 5 November 2026
☀ کراچی 34°☀ لاہور 28°☀ اسلام آباد 24°
دنیا

آبنائے ہرمز کی سمندری سلامتی کے لیے جنوبی کوریا کا بحری مشن تعینات کرنے کا فیصلہ

جنوبی کوریا نے آبنائے ہرمز کے قریب سمندری راستوں کی حفاظت کے لیے بحری نگرانی کے طیارے اور دھماکا خیز مواد ناکارہ بنانے کی ٹیم تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ عالمی تیل کی ترسیل کا اہم ترین آبی گزرگاہ محفوظ رہے۔

around.pk·2h ago

جنوبی کوریا نے آبنائے ہرمز کے قریب سمندری راستے کو کھلا اور محفوظ رکھنے کی بین الاقوامی کوششوں میں معاونت کے لیے بحری نگرانی کے طیارے اور دھماکا خیز مواد ناکارہ بنانے والی ماہر ٹیم تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ملکی وزارتِ دفاع نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اپنے چیونگہے بحری قزاقی مخالف یونٹ کے آپریشنل دائرے کو وسیع کرنے کی منظوری دی ہے۔

وزارتِ دفاع کے مطابق یہ یونٹ اس وقت آبنائے ہرمز کے قریب عمان کے جنوبی سمندری حدود میں سرگرم ہے۔ نئے فیصلے کے تحت اس مشن میں بحری نگرانی کے طیارے اور دھماکا خیز مواد غیر فعال کرنے کے ماہرین شامل کیے جائیں گے، جن کا مقصد اہم آبی گزرگاہ میں بحری آمدورفت کو محفوظ بنانے میں مدد فراہم کرنا ہے۔

آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے اور اسے عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ سمجھا جاتا ہے۔ اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے بحری جہازوں کی حفاظت اور آمدورفت کی بحالی عالمی توانائی کی منڈی اور بین الاقوامی تجارت کے لیے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔

خیال رہے کہ آبنائے ہرمز سے دنیا کی تیل کی بڑی مقدار کی ترسیل ہوتی ہے، جس کی وجہ سے اس راستے کی سلامتی کا معاملہ صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی سطح پر اہمیت رکھتا ہے۔ کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا خطرے کی صورت میں توانائی کی قیمتوں اور عالمی سپلائی چین پر اثر پڑ سکتا ہے۔

جنوبی کوریا کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب متعدد ممالک آبنائے ہرمز کے قریب سمندری سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سیئول کا کہنا ہے کہ اس کی تعیناتی کا مقصد سمندری سلامتی کی کثیر القومی کوششوں میں معاونت فراہم کرنا ہے، تاکہ اس اہم آبی گزرگاہ میں تجارتی بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنایا جا سکے۔

وزارتِ دفاع نے مشن کی تفصیلات، تعیناتی کے وقت اور اس کی مدت کے حوالے سے مزید معلومات فراہم نہیں کیں۔ تاہم اس فیصلے کو خطے میں سمندری سلامتی کے قومی اور بین الاقوامی فریم ورک کے تحت ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں