around.pk
Friday, 6 November 2026
☀ کراچی 34°☀ لاہور 27°☀ اسلام آباد 23°
پاکستان

امریکا سے 150 افغان شہریوں کی پاکستان کے راستے کابل واپسی، دفتر خارجہ کا اتحادیوں سے رابطے کا اعلان

دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق امریکا سے 150 افغان شہریوں کو پاکستان کے راستے کابل بھیجے جانے کے معاملے پر تمام پہلوؤں پر بات چیت جاری ہے اور ایسا راستہ تلاش کیا جائے گا جس پر تمام فریقوں کا اتفاق ہو۔

around.pk·6m ago

پاکستان کے دفتر خارجہ نے امریکا سے 150 افغان شہریوں کو پاکستان کے راستے کابل واپس بھیجے جانے کے معاملے پر واضح موقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اس معاملے کے تمام پہلوؤں پر غور و خوض جاری ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ ایسا راستہ اختیار کیا جائے جس پر تمام فریقوں کا اتفاق ہو۔

یہ معاملہ اُس وقت سامنے آیا جب امریکا نے افغان شہریوں کی ایک مخصوص تعداد کو پاکستان کے راستے ان کے ملک واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ دفتر خارجہ نے اس حوالے سے کسی قسم کی تفصیلات شیئر نہیں کیں، تاہم اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ سفارتی سطح پر رابطہ رکھے ہوئے ہے اور کسی یک طرفہ اقدام کی حمایت نہیں کرتا۔

ادھر دفتر خارجہ کی جانب سے دیگر امور پر بھی اہم معلومات فراہم کی گئیں۔ ترجمان نے بتایا کہ اسلام آباد میں اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کی وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس 15 اور 16 نومبر کو منعقد ہوگا، جس کی تیاریوں سے متعلق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ایک اجلاس بھی ہوا۔ اجلاس میں علاقائی تعاون کے فروغ سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔

مذہبی سیاحت کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اپنے ہاں موجود ہندو اور سکھ مذاہب کے مقدس مقامات کی حفاظت اور زائرین کی مہمان نوازی کا پابند ہے۔ رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں 4 ہزار سکھ یاتریوں اور 9 ہزار 248 ہندو زائرین کو ویزے جاری کیے گئے، جبکہ کرتارپور راہداری کے ذریعے بھی سکھ یاتریوں کی آمد کو ممکن بنایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت نے مئی 2025 کے بعد یاتریوں کی آمد کو معطل کر دیا ہے، تاہم پاکستان ہر وقت دیگر مذاہب کے زائرین کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہیں اور پاکستان مختلف بین الاقوامی معاملات پر اپنے موقف کو واضح کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق افغان شہریوں کی واپسی کا معاملہ پاکستان، امریکا اور افغانستان کے درمیان رابطوں کے تسلسل کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ ای سی او اجلاس علاقائی اقتصادی تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی سطح پر قانونی اور سفارتی طریقوں سے معاملات حل کرنے کی پالیسی اختیار کی ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق افغان شہریوں کی واپسی سمیت تمام امور پر مشاورت کے ذریعے ایسا حل تلاش کیا جائے گا جو کسی بھی فریق کے لیے نقصان دہ نہ ہو۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں