امریکی مڈٹرم انتخابات میں مسلمان ووٹرز کا کردار اہم، ٹرمپ مخالف رجحان نمایاں
امریکا میں 25 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ مسلمان ووٹرز 12 اہم ریاستوں میں مڈٹرم انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، جبکہ سروے کے مطابق اکثریت غزہ اور ایران سے متعلق پالیسیوں پر عدم اطمینان کا شکار ہے۔

امریکا میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں مسلمان ووٹرز کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے، کیونکہ ان کے ووٹ متعدد اہم ریاستوں میں کانگریس کی نشستوں کے نتائج کا رخ بدل سکتے ہیں۔ شہری حقوق کی تنظیم کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کے مطابق ملک بھر میں تقریباً 80 لاکھ مسلمان مقیم ہیں، جن میں 25 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ ووٹرز 12 کلیدی ریاستوں میں موجود ہیں۔
تنظیم کی جانب سے انتخابات سے قبل کرائے گئے ایک سروے میں 81 فیصد مسلمان ووٹرز نے ووٹ ڈالنے کے عزم کا اظہار کیا، جو اس حلقے کی بڑھتی ہوئی سیاسی سرگرمی کو ظاہر کرتا ہے۔ سروے کے مطابق 89 فیصد ووٹرز کے لیے امیدوار کا غزہ سے متعلق مؤقف انتہائی اہم ہے، جبکہ 63 فیصد نے مہنگائی اور بڑھتے اخراجات کو اپنا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا۔
مشی گن، ٹیکساس، جارجیا اور پنسلوانیا جیسی ریاستوں میں مسلمان ووٹرز کی موجودگی انتخابی مقابلوں کے نتائج پر اثر ڈال سکتی ہے۔ مشی گن میں سینیٹ کے امیدوار عبدالسید کی مہم خصوصی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، جبکہ مختلف ریاستوں میں کم از کم 51 مسلمان امریکی امیدوار کانگریس، ریاستی اسمبلیوں اور مقامی حکومتوں کے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ مسلمان ووٹرز کسی ایک جماعت یا امیدوار کے پابند نہیں، بلکہ ان کی ترجیحات میں مذہبی آزادی، صحت کی سہولیات، مہنگائی، امیگریشن، شہری حقوق اور مشرق وسطیٰ سے متعلق امریکی پالیسی شامل ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس حلقے کی اکثریت غزہ اور ایران سے متعلق صدر ٹرمپ کے متنازع کردار پر ناخوش ہے اور حکومت کی امیگریشن پالیسی کو مسلم دشمنی پر مبنی سمجھتی ہے، جس کے باعث اس کا جھکاؤ ٹرمپ مخالف امیدواروں کی جانب ہو سکتا ہے۔
امریکی مڈٹرم انتخابات کے نتائج سے نہ صرف کانگریس میں سیاسی طاقت کا توازن متعین ہوگا، بلکہ آئندہ دو برس صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر عمل درآمد کی گنجائش بھی طے ہوگی۔ اسی تناظر میں دیکھا جائے تو مسلمان ووٹرز کا رجحان اس بار کے انتخابی منظر نامے میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔










