around.pk
Monday, 2 November 2026
☀ کراچی 26°☀ لاہور 23°☀ اسلام آباد 21°
دنیا

امریکی وسط مدتی انتخابات: پانچ کروڑ سے زیادہ شہریوں کی پیشگی ووٹنگ، ریکارڈ شرکت

امریکا میں وسط مدتی انتخابات سے صرف تین روز قبل پانچ کروڑ سے زیادہ شہری پیشگی ووٹ ڈال چکے ہیں، جو 2022 کے انتخابات کے مقابلے میں تقریباً پچاس لاکھ زیادہ ہے۔ ری پبلکنز کو سینیٹ میں برتری کا دفاع درپیش ہے۔

around.pk·2h ago

امریکا میں وسط مدتی انتخابات سے قبل ووٹرز کی غیر معمولی شرکت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ یونیورسٹی آف فلوریڈا کے اعداد و شمار کے مطابق ہفتے کی صبح تک ملک بھر میں پانچ کروڑ پانچ لاکھ سے زیادہ ووٹ ڈالے جا چکے ہیں، جو 2022 کے گزشتہ وسط مدتی انتخابات میں ہونے والی مجموعی پیشگی ووٹنگ سے تقریباً پچاس لاکھ زیادہ ہے۔ انتخابات میں اب صرف تین دن باقی ہیں۔

یہ اعداد و شمار صرف ووٹرز کی رجسٹریشن کی بنیاد پر ہیں، اس لیے ان سے یہ اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ کسی امیدوار کو کتنے ووٹ ملے ہیں۔ تاہم مختلف سروے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت پر عوامی عدم اطمینان اور کئی ریاستوں میں کانٹے دار مقابلوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ری پبلکن پارٹی کو سینیٹ میں 53 کے مقابلے میں 47 نشستوں کی برتری کا دفاع درپیش ہے، جبکہ ڈیموکریٹس ٹیکساس، الاسکا اور کنساس جیسی روایتی طور پر ری پبلکنز کے مضبوط گڑھ سمجھی جانے والی ریاستوں میں کامیابی حاصل کر کے ایوانِ بالا کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے کے خواہشمند ہیں۔

ٹیکساس میں اب تک ستر لاکھ سے زیادہ شہری پیشگی ووٹ ڈال چکے ہیں، جو 2022 کے انتخابات کے مقابلے میں پندرہ لاکھ زیادہ ہیں۔ ہیوسٹن پر مشتمل ہیرس کاؤنٹی میں بدھ تک آٹھ لاکھ باسٹھ ہزار سات سو افراد ووٹ ڈال چکے تھے، جبکہ 2022 میں اسی وقت یہ تعداد پانچ لاکھ چونسٹھ ہزار پانچ سو تھی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پیشگی ووٹنگ میں اضافے اور سخت انتخابی مقابلوں نے کانگریس کے مستقبل کے حوالے سے ان انتخابات کو غیر معمولی اہمیت دے دی ہے۔ یہ صورتحال امریکی سیاست میں آنے والی تبدیلیوں اور آئندہ دو سال کی قانون سازی کے رجحانات کا بھی اشارہ دے سکتی ہے۔

واضح رہے کہ پیشگی ووٹنگ کا یہ رجحان امریکا کی انتخابی سیاست میں گزشتہ چند سالوں کے دوران ایک مستقل خصوصیت بنتا جا رہا ہے، جس پر دونوں بڑی جماعتیں اپنی حکمت عملی مرتب کر رہی ہیں۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں