around.pk
Thursday, 5 November 2026
☀ کراچی 34°☀ لاہور 28°☀ اسلام آباد 24°
دنیا

ایران میں سزائے موت پانے والے افغان شہریوں کی تعداد 27 تک پہنچ گئی

ایران نے منشیات اسمگلنگ کے الزام میں دو مزید افغان شہریوں کو اصفہان کی جیل میں پھانسی دے دی، جس کے بعد رواں سال سزائے موت پانے والے افغان باشندوں کی مجموعی تعداد 27 ہو گئی ہے۔

around.pk·1h ago

ایران میں غیر قانونی تارکین وطن اور جرائم پیشہ افغان پناہ گزینوں کے خلاف جاری کارروائیوں کے سلسلے میں دو مزید افغان شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم ہینگاو کے مطابق یہ افراد منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں قصوروار قرار دیے گئے تھے اور انہیں اصفہان شہر کی دستگرد جیل میں پھانسی دی گئی۔

پھانسی پانے والے افغان شہریوں کی شناخت 43 سالہ مبارک محمدی اور 49 سالہ قاسم ملا امینی کے نام سے ہوئی ہے۔ دونوں کا تعلق افغانستان کے صوبہ جوزجان کے شہر شبرغان سے تھا اور وہ ایران کے شہر مشہد میں مقیم تھے۔ اطلاعات کے مطابق دونوں افراد کو عدالتی کارروائی کے بعد سزا سنائی گئی تھی۔

افغانستان انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق رواں سال کے آغاز سے اب تک ایران میں مختلف جرائم میں ملوث کم از کم 27 افغان شہریوں کو سزائے موت دی جا چکی ہے۔ ان جرائم میں منشیات کی اسمگلنگ، قتل، جاسوسی اور حکومت مخالف مظاہروں میں شرکت جیسے امور شامل ہیں۔

واضح رہے کہ ایران میں افغان تارکین وطن کی بڑی تعداد مقیم ہے اور ان میں سے کئی افراد قانونی دستاویزات کے بغیر رہائش پذیر ہیں۔ حالیہ عرصے میں ایرانی حکام نے غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد افراد کو ملک بدر بھی کیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایران کی جانب سے افغان شہریوں کو دی جانے والی سزائے موت کے معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ افغان تارکین وطن کو مناسب قانونی مدد اور منصفانہ مقدمے کی سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔

دوسری جانب، افغان باشندوں کی بڑھتی غیر قانونی سرگرمیاں میزبان ممالک کی داخلی سلامتی کے لیے چیلنج سمجھی جا رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے علاقائی تعاون اور مشترکہ قانونی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ انسانی حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنایا جا سکے۔

خیال رہے کہ ایران میں سزائے موت کے معاملات پر بین الاقوامی سطح پر تنقید جاری رہتی ہے، جبکہ ایرانی حکام ان اقدامات کو ملکی قوانین کے تحت جائز قرار دیتے ہیں۔ اس معاملے پر مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں