ایران کے سپریم لیڈر کا واضح پیغام: امریکی انتخابات کے بعد بھی واشنگٹن کی پالیسی نہیں بدلے گی
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج سے واشنگٹن کی ایران مخالف پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور ایران کے خلاف دوبارہ جارحیت کی صورت میں جنگ کا دائرہ بہت وسیع ہو جائے گا۔

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج کے بعد ایک واضح پیغام جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ واشنگٹن کی ایران مخالف پالیسی میں تبدیلی کی امید رکھنا غلط فہمی ہے۔ یہ بیان امریکی انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت کو نقصان پہنچنے کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنی ویب سائٹ پر جاری تحریری بیان میں کہا کہ امریکی سیاسی جماعتوں یا دھڑوں کی تبدیلی سے ایران کے خلاف امریکی رویہ بدلنے کی توقع درست نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو رعایتیں دینے سے بھی ایرانی قوم کے خلاف اس کی دشمنی ختم نہیں ہوگی۔
ایرانی سپریم لیڈر نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے خلاف دوبارہ جارحیت کی گئی تو جنگ کا دائرہ بہت وسیع ہو جائے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنگ کے دوبارہ شروع ہونے سے روکنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، جبکہ امریکی اور اسرائیلی قیادت نے حالیہ دنوں میں ایران پر حملے دوبارہ شروع کرنے کی دھمکیاں دی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جنگ 28 فروری کو شروع ہوئی تھی۔ مجتبیٰ خامنہ ای نے مارچ میں اقتدار سنبھالا تھا، تاہم اس کے بعد سے وہ تاحال عوام کے سامنے نہیں آئے۔ ان کے اس بیان کو ایران کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے امریکی انتخابی نتائج پر پہلا باقاعدہ ردعمل قرار دیا جا رہا ہے۔
دریں اثنا، ایران کے چیف مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی امریکی انتخابی نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام نے جنگ کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ امریکی عوام نے ضمیر کی آواز اور مہنگائی کے دباؤ کے تحت جنگ کو مسترد کیا، اور خبردار کیا کہ اگر امریکی حکومت عوامی خواہشات کے برخلاف بیرونی دباؤ کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہے تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایران کے عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی اژہ ای نے بھی انتخابی نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ کو فوجی اور سیاسی دونوں محاذوں پر شکست ہوئی ہے اور ایران مستقبل میں بھی انہیں مزید شکستوں سے دوچار کرے گا۔ یاد رہے کہ ایران سے مبینہ تعلقات پر امریکا نے بھارت اور ترکیہ کی کمپنیوں اور افراد کے خلاف بھی نئی پابندیاں عائد کی ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران کی قیادت کی جانب سے یہ مسلسل بیان بازی ظاہر کرتی ہے کہ تہران امریکی داخلی سیاسی تبدیلیوں کو اپنی پالیسی کے لیے فیصلہ کن عنصر نہیں سمجھتا۔ اس موقف کی روشنی میں آئندہ دنوں میں سفارتی کوششوں اور پابندیوں کے معاملے پر صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں اور خطے کی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔









