around.pk
Wednesday, 4 November 2026
☀ کراچی 23°☀ لاہور 19°☀ اسلام آباد 16°
پاکستان

ایف آئی آر کا اندراج تنہا سرکاری ملازمت سے نااہلی کی بنیاد نہیں بن سکتا: وفاقی آئینی عدالت

وفاقی آئینی عدالت نے واضح کیا ہے کہ محض ایف آئی آر کا اندراج کسی امیدوار کو سرکاری ملازمت کے لیے نااہل قرار نہیں دے سکتا، اور بریت کے بعد پولیس کے کریکٹر سرٹیفکیٹ میں کیس کو منفی انداز میں پیش نہیں کیا جائے گا۔

around.pk·16m ago

وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمتوں میں بھرتی کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ محض ایف آئی آر کا اندراج کسی امیدوار کی سرکاری ملازمت کے لیے نااہلی کی وجہ نہیں بن سکتا۔ چیف جسٹس امین خان کی سربراہی میں قائم ڈویژن بنچ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران یہ ریمارکس دیے اور وفاقی و صوبائی حکام کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایات جاری کیں کہ سرکاری بھرتیوں میں امیدواروں کے سابقہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے لیے یکساں، شفاف اور آئین سے ہم آہنگ ضابطے اپنائے جائیں۔

عدالت نے کہا کہ امیدوار کے ماضی کا جائزہ لیتے ہوئے عدالتی ہدایات کو اہمیت دی جانی چاہیے اور کردار کی جانچ پڑتال قیاس آرائی یا شک کی بجائے مستند اور آزادانہ تصدیق پر مبنی ہونی چاہیے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر کسی امیدوار کو بریت حاصل ہو چکی ہو تو پولیس کے کریکٹر سرٹیفکیٹ میں اس کیس کو منفی انداز میں نمایاں نہیں کیا جائے گا۔ جہاں مقدمے کی کارروائی زیر التوا ہو، وہاں جرم کو پہلے سے طے شدہ تصور کیے بغیر صرف اس کے زیر التوا ہونے کا ذکر کیا جائے۔

بنچ نے ہدایت دی کہ کسی بھی امیدوار کو سنے بغیر اور دلائل پر مبنی فیصلے کے بغیر ملازمت سے خارج نہیں کیا جائے گا، اور بھرتی کے تمام فیصلے قانونی معیار، میرٹ اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہونے چاہئیں۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ ایف آئی آر کے اندراج اور عدالت میں ثابت شدہ جرم کے درمیان بنیادی فرق کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ایف آئی آر محض ایک الزام ہے، یہ نہ تو کوئی ثبوت ہے اور نہ ہی جرم کی شہادت پیش کرتی ہے۔ اس لیے سرکاری ملازمت کے لیے اہلیت کا تعین کرتے وقت اس فرق کو نظر انداز کرنا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہوگا۔ عدالت نے حکام کو ہدایت کی کہ بھرتی کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستحق امیدواروں کو محض الزامات کی بنیاد پر محروم نہ کیا جائے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سرکاری ملازمتوں کے خواہشمند امیدوار اکثر پولیس ریکارڈ یا کریکٹر سرٹیفکیٹ میں درج مقدمات کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے بھرتی کے عمل میں یکساں معیار کو فروغ ملے گا اور امیدواروں کو قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔

عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا کہ آئین کے تحت ہر شہری کو منصفانہ سلوک کا حق حاصل ہے، اور ریاستی اداروں کو چاہیے کہ وہ بھرتی کے فیصلے کرتے وقت قانونی تقاضوں، میرٹ اور شفافیت کو اولین ترجیح دیں۔ اس فیصلے کو سرکاری محکموں کے لیے ایک رہنما اصول قرار دیا جا رہا ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں