ایپل کے پہلے فولڈ ایبل آئی فون کی فروخت میں مشکلات، صارفین آرڈرز منسوخ کرنے لگے
چین میں آئی فون ڈوو کی فروخت شروع ہونے کے صرف تین دن بعد ری سیل قیمت میں کمی اور آرڈرز منسوخی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ صارفین نے اسکرین اور قبضے میں دراڑیں پڑنے جیسے معیاری مسائل پر بھی شکایات کی ہیں۔

ایپل کے پہلے فولڈ ایبل آئی فون کی مارکیٹ میں آمد کے ساتھ ہی اسے مشکلات کا سامنا ہے۔ رپورٹس کے مطابق چین میں فروخت شروع ہونے کے صرف تین دن بعد بعض سیلز چینلز پر فون کی قیمت میں کمی دیکھی گئی ہے، جبکہ متعدد صارفین کی جانب سے آرڈرز منسوخ کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
چین میں آئی فون ڈوو کے 256 جی بی ورژن کی سرکاری قیمت 15 ہزار 999 یوان یعنی تقریباً 2399 ڈالر مقرر کی گئی تھی، جو اسے ایپل کا اب تک کا سب سے مہنگا آئی فون بناتا ہے۔ تاہم بعض صارفین آن لائن پلیٹ فارمز کی سبسڈی کے ذریعے یہی ماڈل 15 ہزار 499 یوان میں خریدنے میں کامیاب رہے، جبکہ کچھ ڈسٹری بیوٹرز بھی فون کو سرکاری قیمت سے کم پر فروخت کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق فون کی ری سیل قیمت میں بھی ماہ کے آغاز کے مقابلے میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایپل کی ویب سائٹ پر بعض آرڈرز کی ڈیلیوری جنوری 2027 تک متوقع بتائی گئی تھی، جو طلب اور رسد کے درمیان واضح فرق کی نشاندہی کرتی ہے۔
چینی سوشل میڈیا پر فون کو مبینہ معیاری مسائل پر بھی تنقید کا سامنا ہے۔ بعض صارفین نے اسکرین یا قبضے میں دراڑیں پڑنے، بڑی اسکرین پر ایپس میں سیاہ پٹیاں دکھائی دینے اور مرمت کے بھاری اخراجات کی شکایات کی ہیں۔ ان مسائل نے مہنگے ترین آئی فون کے بارے میں صارفین کی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ فولڈ ایبل ڈیوائسز میں قبضے اور اسکرین کی پائیداری ہمیشہ سے ایک بڑا چیلنج رہی ہے، اور ایپل کی طرح بڑی کمپنی کے لیے اس طرح کی شکایات برانڈ کی ساکھ کے لیے اہمیت رکھتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق نئی ٹیکنالوجی کے پہلے ماڈلز میں اس نوعیت کے مسائل عام طور پر ابتدائی مرحلے میں سامنے آتے ہیں۔
فی الحال ایپل کی جانب سے ان شکایات یا قیمت میں کمی کے حوالے سے کوئی سرکاری وضاحت سامنے نہیں آئی۔ دیکھنا یہ ہے کہ کمپنی ان معیاری خدشات کا کس طرح جواب دیتی ہے اور کیا آنے والے مہینوں میں فون کی مانگ اور قیمت میں استحکام آتا ہے۔









