around.pk
Saturday, 31 October 2026
☀ کراچی 27°☀ لاہور 21°☀ اسلام آباد 18°
ٹیکنالوجی

بائنانس سے 6 ارب 30 کروڑ ڈالر کی ہیکنگ، ماہرین نے شمالی کوریا کو ذمہ دار قرار دے دیا

دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس سے ہیکرز نے 6 ارب 30 کروڑ ڈالر چرا لیے، جسے ماہرین نے تاریخ کی سب سے بڑی مالی ڈکیتی قرار دیا ہے۔ کمپنی نے صارفین کے نقصانات پورے کرنے کا یقین دلایا ہے۔

around.pk·2h ago

دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس سے ہیکرز نے 6 ارب 30 کروڑ ڈالر مالیت کے اثاثے چرا لیے ہیں۔ ماہرین نے اس واقعے کو تاریخ کی سب سے بڑی مالی ڈکیتی قرار دیتے ہوئے الزام شمالی کوریا پر عائد کیا ہے۔ خبر کے سامنے آتے ہی کرپٹو کرنسی کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ بائنانس نے عارضی طور پر رقم نکلوانے کی سہولت معطل کر دی اور یقین دلایا کہ نقصانات کی تلافی کے لیے کمپنی اپنے فنڈز استعمال کرے گی۔

رپورٹس کے مطابق ایل سلواڈور میں قائم ٹیتر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت یافتہ ورلڈ لبرٹی فنانشل سمیت اسٹیبل کوائن جاری کرنے والے اداروں نے چوری شدہ اثاثوں کا تقریباً نصف حصہ منجمد کر دیا ہے۔ بائنانس کا کہنا ہے کہ صارفین کے فنڈز محفوظ ہیں اور شراکت دار اداروں کے ساتھ مل کر متاثرہ اثاثے منجمد کرنے پر کام کیا جا رہا ہے، جبکہ اب تک تقریباً 3 ارب ڈالر کے اثاثوں کا سراغ لگا لیا گیا ہے۔

کمپنی نے اس سے قبل کہا تھا کہ اگلے 48 گھنٹوں میں رقم نکلوانے کی سہولت بحال ہونے کا امکان ہے، تاہم باقی 3 ارب 30 کروڑ ڈالر کے حوالے سے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں بائنانس کی شریک چیف ایگزیکٹو افسر یی ہی نے بتایا کہ 3 ارب ڈالر کی رقم کمپنی کے صارفین کے مجموعی اثاثوں اور ظاہر کردہ ذخائر کا محض 2 فیصد ہے۔

بائنانس کے مطابق نقصانات پورے کرنے کے لیے اندرونی طور پر تقریباً 6 ارب 34 کروڑ ڈالر کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق سیکیورٹی کی خلاف ورزیوں کی صورت میں صارفین کے اثاثوں کے تحفظ کے لیے ایک ارب ڈالر کا بٹ کوائن ریزرو فنڈ بھی قائم کیا گیا ہے۔ بائنانس کے بانی چانگ پینگ ژاؤ نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ کمپنی کے پاس اسپیس ایکس کے ایک ارب ڈالر سے زائد مالیت کے حصص بھی موجود ہیں۔

بائنانس کے دوسرے شریک چیف ایگزیکٹو افسر رچرڈ ٹینگ نے بتایا کہ یہ سیکیورٹی خلاف ورزی ایک پیچیدہ سائبر حملے کا نتیجہ تھی جس میں ایک نہیں بلکہ متعدد عناصر ملوث تھے۔ حملے میں ایک لیپ ٹاپ ہیک کیا گیا اور ایسا نقصان دہ سافٹ ویئر استعمال کیا گیا جو اپنی سرگرمی کے شواہد مسلسل مٹاتا رہتا تھا، جس سے تحقیقات مزید مشکل ہو گئیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہیکرز نے لین دین کی منظوری دینے والے نظام میں ردوبدل کر کے بائنانس کے زیر کنٹرول انٹرنیٹ سے منسلک ہاٹ والٹ سے رقم نکالی، اور یہ لین دین معمول کے منظوری کے طریقہ کار سے گزرے بغیر انجام پائے۔

یہ واقعہ عالمی ڈیجیٹل اثاثہ جات کی صنعت میں سیکیورٹی کے بڑھتے ہوئے خدشات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے حملے نہ صرف صارفین کے اعتماد کو متاثر کرتے ہیں بلکہ کرپٹو مارکیٹ کی مجموعی استحکام کے لیے بھی چیلنج پیدا کرتے ہیں، جبکہ بائنانس کی جانب سے نقصانات کی تلافی اور منجمد کیے گئے اثاثوں کی بازیابی کی کوششیں جاری ہیں۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں