خیبرپختونخوا کے زیادہ نقصان والے علاقوں میں لوڈشیڈنگ کم کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کے ان علاقوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جہاں نقصانات زیادہ ہیں، جبکہ نئے ٹرانسفارمر بیسڈ لوڈ مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے پورے فیڈر بند کرنے کی روایت ختم کی جا رہی ہے۔

وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کے ان علاقوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جہاں ترسیل و تقسیم کے دوران نقصانات کی شرح زیادہ ہے اور صارفین کو طویل لوڈشیڈنگ کا سامنا رہتا ہے۔ یہ فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر پاور ڈویژن میں منعقدہ ایک اہم اجلاس میں کیا گیا، جس میں وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری اور وفاقی وزیر پیٹرولیم نے شرکت کی۔
اجلاس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے توانائی، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ڈاکٹر فخر عالم عرفان اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ گورنر خیبرپختونخوا نے زیادہ نقصانات والے علاقوں میں لوڈشیڈنگ کم کرنے کی درخواست کی، جسے حکومت نے عوامی ریلیف کے لیے خیرسگالی کے طور پر قبول کرتے ہوئے ان علاقوں میں بجلی کی فراہمی کا دورانیہ بڑھانے کا فیصلہ کیا۔
وفاقی وزیر توانائی نے اس موقع پر کہا کہ عوام کو حکومتی اعتماد کا مثبت جواب دینا چاہیے اور بجلی کے بل بروقت ادا کرنے چاہئیں، کیونکہ واجبات کی ادائیگی اور بجلی کی چوری کا خاتمہ بلا تعطل ترسیل کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں ٹرانسفارمر بیسڈ لوڈ مینجمنٹ سسٹم نافذ کیا جا رہا ہے، جس کے تحت پورے فیڈر کو بند کرنے کا روایتی طریقہ ختم ہو جائے گا اور اب لوڈ مینجمنٹ ٹرانسفارمرز کی سطح پر کی جائے گی۔
اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو پائیدار ریلیف فراہم کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی قیادت کے درمیان رابطہ برقرار رکھا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق ٹرانسفارمر سطح پر لوڈ مینجمنٹ سے نہ صرف بجلی کی بچت ہوگی بلکہ صارفین کو غیر ضروری طویل بندش سے بھی نجات ملے گی۔
یاد رہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں نقصانات اور واجبات کی وصولی طویل عرصے سے ایک بڑا چیلنج رہی ہے، اور حکومت اس حوالے سے اصلاحات پر کام کر رہی ہے۔ خیبرپختونخوا کے صارفین کو درپیش توانائی کے مسائل کے حل کے لیے یہ اجلاس ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
حکومت کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں بجلی کی طلب اور رسد کے توازن کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے عوام کو فوری ریلیف دینے کے علاوہ اس فیصلے کا مقصد نظامِ ترسیل کو مزید موثر اور شفاف بنانا بھی ہے۔







