around.pk
Monday, 2 November 2026
☀ کراچی 31°☀ لاہور 27°☀ اسلام آباد 25°
پاکستان

راولپنڈی میں جعلی بینک رسیدوں کے ذریعے کروڑوں کے قریب فراڈ، این سی سی آئی اے نے دو ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا

راولپنڈی کی ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں مرغی کی سپلائی کے نام پر 23 لاکھ 96 ہزار 600 روپے کا مبینہ فراڈ سامنے آیا ہے، جس میں ملزمان نے جعلی اور ایڈٹ شدہ بینک ٹرانزیکشن رسیدیں واٹس ایپ پر بھیج کر ادائیگی کا جھوٹا تاثر دیا۔

around.pk·2h ago

راولپنڈی میں سائبر کرائم کا ایک نیا معاملہ سامنے آیا ہے جس میں جعلی بینک ٹرانزیکشن رسیدوں کے ذریعے لاکھوں روپے کا مبینہ فراڈ بے نقاب ہوا ہے۔ این سی سی آئی اے راولپنڈی نے اس کیس میں مبینہ طور پر ملوث دو ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔

تفصیلات کے مطابق نجی ہاؤسنگ سوسائٹی فیز 8 میں اعوان چکن کے نام سے دکان چلانے والا ملزم مبینہ فراڈ میں ملوث پایا گیا۔ ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے مرغی کی سپلائی کے نام پر ایک شہری کو 23 لاکھ 96 ہزار 600 روپے کا چونا لگایا اور جعلی و ایڈٹ شدہ بینک رسیدیں تیار کر کے ادائیگی کا جھوٹا تاثر دیا۔

این سی سی آئی اے کے مطابق دوسرا ملزم مبینہ طور پر جعلی رسیدیں تیار کر کے واٹس ایپ کے ذریعے بھیجتا تھا، جس سے سپلائر کو یہ یقین دلایا جاتا کہ رقم منتقل ہو چکی ہے۔ ادارے نے بتایا کہ ڈائریکٹر جنرل این سی سی آئی سید علی ناصر رضوی کی ای کچہری میں درج شکایت پر فوری کارروائی کی گئی، جس کے نتیجے میں ملزم کی گرفتاری عمل میں آئی۔

تحقیقاتی عملے نے ملزمان کی واٹس ایپ گفتگو اور مبینہ جعلی رسیدیں حاصل کیں، جبکہ موبائل فونز کے تکنیکی تجزیے سے سائبر فراڈ کے اہم شواہد بھی ملے۔ کاروباری حسابات کی جانچ پڑتال پر 23 لاکھ 96 ہزار 600 روپے کی مبینہ عدم ادائیگی کی تصدیق ہوئی۔

این سی سی آئی اے نے پیکا اور پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس مبینہ فراڈ میں مزید افراد کے ملوث ہونے کا امکان موجود ہے، اس لیے تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے تاکہ پوری نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا جا سکے۔

یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے بڑھتے رجحان کے ساتھ جعلی رسیدوں اور واٹس ایپ پر ہونے والے فراڈ کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کاروباری افراد کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ بڑی رقوم کی منتقلی کی تصدیق بینک کے آفیشل چینل سے کریں اور صرف میسج یا تصویر کی بنیاد پر ادائیگی کو حتمی نہ سمجھیں۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں