around.pk
Monday, 2 November 2026
☁ کراچی 25°☀ لاہور 21°☀ اسلام آباد 18°
دنیا

روس نے ایران پر ممکنہ نئے حملوں کے اشاروں پر شدید تشویش کا اظہار کر دیا

روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کی منصوبہ بندی سے متعلق اطلاعات کو انتہائی تشویش ناک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسی کارروائیاں ایرانی عوام کے اپنے دفاع کے عزم کو ختم نہیں کر سکتیں۔

around.pk·1h ago

روس نے ایران کے خلاف ممکنہ نئی فوجی کارروائی سے متعلق اطلاعات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اشارے انتہائی تشویش ناک ہیں اور اس سلسلے میں دھمکیاں دینے والوں کو اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ روسی خبر رساں ادارے انٹرفیکس کے مطابق روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے ایک بیان میں واضح کیا کہ ایران کے گرد تنازع ابھی حل نہیں ہوا اور اس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ کے دیگر بحرانوں سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔

زاخارووا نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ کے تلخ تجربات یہ ثابت کر چکے ہیں کہ ایران میں ہلاکتوں اور تباہی کا سبب بننے والی فوجی مہم جوئیاں ایرانی عوام کے اپنی خودمختاری اور آزادی کے دفاع کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتیں۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ صورتِ حال کو معمول پر لانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنا ضروری ہے۔

روسی ترجمان کے مطابق ماسکو ثالثوں کی کوششوں کی حمایت کر رہا ہے اور مذاکراتی عمل میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی راستے کے بجائے بات چیت ہی خطے میں پائیدار استحکام کا راستہ ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی کوششیں جاری ہیں، تاہم یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل خطے میں دوبارہ فوجی کارروائی کا امکان موجود ہے۔

مبصرین کے مطابق ایران کے گرد جاری تنازع نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں اور سفارتی توازن پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، جس کے پیشِ نظر روس کی جانب سے خبردار کرنا ایک اہم سفارتی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ مختلف مراحل سے گزر رہا ہے اور حالیہ دنوں میں کچھ پیش رفت بھی سامنے آئی ہے، تاہم حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ابھی مزید سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں