شنگھائی تعاون تنظیم کی قیادت: پاکستان کی ترجیحات میں اے آئی، علاقائی روابط اور نوجوانوں کی شمولیت شامل
وزارت خارجہ نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کو بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان کی شنگھائی تعاون تنظیم کی قیادت کے دوران مصنوعی ذہانت، علاقائی روابط اور نوجوانوں کی شمولیت کو ترجیح دی جائے گی۔

وزارت خارجہ نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کو بتایا ہے کہ پاکستان کی جانب سے پہلی مرتبہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی قیادت سنبھالنے کے دوران تنظیم کی ترجیحات میں مصنوعی ذہانت، علاقائی روابط اور نوجوانوں کی شمولیت شامل ہوں گی۔ یہ بریفنگ کمیٹی کے اجلاس میں دی گئی، جس کی صدارت چیئرمین آغا شاہزیب درانی نے کی اور جس میں شیری رحمان، روبینہ قائم خانی، انوشہ رحمان اور عامر ولی الدین چشتی سمیت دیگر ارکان نے شرکت کی۔
اجلاس میں پاک-افغان تعلقات کی موجودہ صورت حال اور حالیہ پیش رفت پر ان کیمرا بریفنگ دی گئی، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ اقوام متحدہ اور اہم سفارتی ملاقاتوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا حالیہ دورہ پاکستان کامیاب سفارتی رابطوں کا عکاس ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں وزیراعظم کے دورہ اقوام متحدہ پر تفصیلی بریفنگ دی جائے اور ایران-امریکا تنازع کے تناظر میں ان مصروفیات کا جائزہ لیا جائے۔
کمیٹی نے مکہ معاہدہ اور بدلتی ہوئی علاقائی و عالمی صورت حال پر بھی تفصیلی بریفنگ طلب کی اور خارجہ پالیسی کے اہم معاملات پر پارلیمانی نگرانی کو مؤثر بنانے پر زور دیا۔ اجلاس میں نئے سیکریٹری خارجہ کا خیرمقدم کیا گیا اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے مؤقف کی مؤثر نمائندگی کو سراہا گیا، تاہم ارکان نے وزیر خارجہ کی اجلاس میں عدم شرکت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کارروائی میں شرکت کو ضروری قرار دیا۔
دفتر خارجہ کی جانب سے دستاویزات کی تصدیق کے نظام کو ڈیجیٹل بنانے پر بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام کے مطابق مجموعی دستاویزات کی تصدیق کے تقریباً 65 فیصد کام کو ڈیجیٹل نظام پر منتقل کر دیا گیا ہے اور عمومی دستاویزات کی آن لائن تصدیق کو ایچ ای سی ڈیٹا بیس سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ عوام کی سہولت کے لیے دستی تصدیق کا نظام بھی برقرار رکھا گیا ہے، جبکہ اپوسٹیل تصدیق کا مجموعی کام میں 35 فیصد حصہ ہے اور اس نظام کو نادرا سے منسلک کرنے کی منصوبہ بندی جاری ہے۔
کمیٹی نے ڈیجیٹلائزیشن کے باوجود دستاویزات کی تصدیق میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا اور سرکاری دستاویزات کی تصدیق کے لیے وصول کی جانے والی فیس پر بھی سوالات اٹھائے۔ واضح رہے کہ یہ بریفنگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان علاقائی سفارتی اور اقتصادی تعاون کے میدان میں اپنا کردار مزید مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔







