قومی اسمبلی کی خزانہ کمیٹی نے کمپنیز ترمیمی بل 2026 پر غور مؤخر کر دیا
خزانہ کمیٹی نے کمپنیز ترمیمی بل 2026 پر فیصلہ آگے بڑھا دیا اور ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم کے ممکنہ غلط استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مستفید کنندگان کا ڈیٹا طلب کر لیا۔

اسلام آباد میں قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس سید نوید قمر کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں کمپنیز ترمیمی بل 2026 اور ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم سمیت متعدد اہم امور زیر غور آئے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ کمپنیز ترمیمی بل 2026 ابھی حتمی شکل اختیار نہیں کر سکا، اسی لیے اس پر مزید غور و بحث کو مؤخر کر دیا گیا ہے۔
کمیٹی اراکین نے ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم پر بریفنگ کے لیے چیئرمین ایف بی آر کی عدم موجودگی پر سوال اٹھایا۔ وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے وضاحت دی کہ ایف بی آر کی جانب سے ممبر پالیسی اجلاس میں موجود ہیں اور اسکیم سے متعلق امور پر گفتگو جاری رکھی گئی۔
اجلاس کے دوران کمیٹی ممبر مرزا اختیار بیگ نے مطالبہ کیا کہ اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کا مکمل ڈیٹا فراہم کیا جائے۔ کمیٹی چیئرمین سید نوید قمر نے بھی خدشہ ظاہر کیا کہ اس اسکیم کا غلط استعمال ہوا ہے، جس کے نتائج کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
کمیٹی ممبر جاوید حنیف نے سوال اٹھایا کہ اسکیم کے نفاذ کے بعد ملکی برآمدات میں کتنا اضافہ ہوا اور اس حوالے سے تفصیلی اعداد و شمار پیش کیے جائیں۔ کمیٹی نے اسکیم سے مستفید ہونے والوں کا ڈیٹا اور برآمدات میں اضافے کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔
وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی نے اجلاس کو بتایا کہ حکومت بزنس کمیونٹی کے ساتھ مل کر اسکیم میں تبدیلیوں کی تجاویز تیار کر رہی ہے، جو آئندہ چند روز میں مکمل کر لی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اسکیم کو مزید مؤثر اور شفاف بنانے کے لیے کاروباری حلقوں کی آراء کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم کا مقصد ملکی برآمدات کو فروغ دینا اور برآمد کنندگان کو سہولت فراہم کرنا ہے، تاہم اس کے غلط استعمال کے خدشات نے کمیٹی کی توجہ اس جانب مبذول کرائی ہے۔ کمیٹی نے اسکیم کی شفافیت اور اس کے مثبت نتائج کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔








